احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
نجات پاسکتے ہیں جو خدا کو مانتے اور عمل صالحہ کرتے ہیں اور قرآنی آیات اس کے ثبوت میں پیش کیں۔ تب ان سے صاف انکار کیا اورآنحضرتﷺ پر خود پرستی اور خونریزی کا الزام لگایا۔ مگر جب کسی شخص نے یہ اعتراض کیا کہ قرآن کریم کی رو سے مکہ، مدینہ اور بیت المقدس کے متولی وہی لوگ ہوں گے جو متقی ہوں گے اور وہ ہیں آپ کے مخالف تو وہ متقی کیسے ہوئے؟ تو جھٹ پہلو بدل گئے اور مولوی فضل دین نے الحکم میں شائع کرادیا کہ بے خبر کو خدا عذاب نہیں کرتا۔ خواہ وہ مشرک اور ظالم کیوں نہ ہو۔ الغرض مرزاقادیانی اور مرزائی قرآن وحدیث کے انہیں الفاظ کو پکڑتے ہیں۔ جن سے ان کی مطلب براری ہوسکتی ہو۔ خواہ کیسی ہی بعید تاویلات کرنی پڑیں اور کتنا ہی آیات محکمات اور احادیث صحیحہ کا انکار کرنا پڑے۔ میرناصر نواب دہلوی خسر مرزاقادیانی کے چند اشعار حالات مرزا میں (منقول از اشاعۃ السنہ نمبر۱۲ ج۱۴) ہے کہیں نوٹس بزرگی کا لگا آؤ لوگو ہم پہ ہے فضل خدا ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک ہم تمہیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک مال و دولت اور بیٹے پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے تم پھلو پھولو گے دشمن ہوں گے خوار تم پہ رحمت ان پہ ہو گی حق کی مار مال جو دے وہ مرید خاص ہے اس کے دل میں بالخصوص اخلاص ہے جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب ہائے دنیا میں پڑا ہے یہ غضب ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش قرض سے ایک دفعہ ہو جائے نجات گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض آج کل مکار ایسے پیر ہیں ان کے حال و قال بے تاثیر ہیں اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار یہ ہی لوگوں نے کیا ہے روزگار پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب اس طرح کا پڑ گیا یارو غضب