احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
قادیانی امت اور جنسی انارکی کسی شخص یا گروہ کی جنسی انارکی کے واقعات کا تذکرہ یا ان کی اشاعت عام طور پر ناپسندیدہ خیال کی جاتی ہے۔ ہمیں بھی اصولاً اس سے اتفاق ہے۔ لیکن اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خلق خدا کو گمراہ کرے اور ’’تقدس‘‘ کی آڑ میں مجبور مریدوں کی عصمتوں کے خون سے ہولی کھیلے، سینکڑوں گھروں کو ویران کر دے، انبیاء علیہم السلام اور دیگر مقدس افراد کے بارے میں ژاژخائی کرے تو اسے محض اس بناء پر نظرانداز کر دینا کہ وہ ایک مذہبی دکان کا بااثر مالک ہے۔ قانوناً، شرعاً، اخلاقاً ہر لحاظ سے نادرست اور ناواجب ہے۔ قرآن مجید نے مظلوم کو نہایت واضح الفاظ میں ظالم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کی اجازت دی ہے۔ بقولہ تعالیٰ: ’’لا یحب اﷲ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم‘‘ مرزاغلام احمد نے جس زبان میں گل افشانی کی ہے کوئی بھی مہذب انسان اسے پسند نہیں کر سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بطور خاص ان کا نشانہ بنے ہیں۔ گو دیگر انبیاء کرام اور صلحاء امت میں سے بھی شاید ہی کوئی فرد ایسا ہوگا جو ان کی ’’سلطان القلمی‘‘ کی زد میں نہ آیا ہو۔ مسلمانوں کو ’’کنجریوں کی اولاد‘‘ قرار دینا، مولانا سعد اﷲ لدھیانوی کو ’’نحس‘‘ اور ’’نطفۃ السفہاء‘‘ کے نام خطاب کرنا، مناظرہ مدّ میں مسلمانوں کے شہرہ آفاق مناظر کو ’’بھونکنے والا کتا‘‘ کے الفاظ سے یاد کرنا اور اس نوع کی دیگر بے شمار دشنام طرازیاں ہر سعید فطرت کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ کون سی نفسیاتی الجھن ہے۔ جو نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کو ایسے الفاظ استعمال کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مرزاغلام احمد کے بعد ان کے بیٹے مرزامحمود نے اپنے بلند بانگ دعاوی کی آڑ لے کر جن قبیح حرکات کا ارتکاب کیا۔ ان کی طرف سب سے پہلی انگلی پیر سراج الحق نعمانی نے اٹھائی اور اس ’’ابن صالح‘‘ کے کرتوتوں کے بارے میں ایک رقعہ لکھ کر مرزاغلام احمد قادیانی کی پگڑی میں رکھ دیا۔ گو پیر کا بیٹا ’’مریدوں کی عدالت‘‘ سے شبہ کا فائدہ حاصل کر کے بچ گیا۔ لیکن اس کے دل میں یہ بات پوری طرح جاگزیں ہوگئی کہ مریدوں کی تطہیر ذہنی ہی کافی نہیں۔ معاشی جبر کے ساتھ ساتھ ان پر ریاستی جبر کے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جائیں۔ تاکہ وہ کبھی سچ بات کہنے کی جرأت نہ کر سکیں۔ پیر سراج الحق نعمانی نے اظہار حق کا جو ’’جرم‘‘ کیا تھا۔ اس کی پاداش میں مرزامحمود نے ساری عمر اسے چین نہ لینے دیا اور ہر ممکن طریقہ سے اس پر تشدد کیا۔ اطمینان کامل کے بعد مرزامحمود پھر اپنے دھندے میں مصروف ہوگیا اور اس کی اہرمنی احتیاطوں کے باوجود ہر چند سال کے بعد