احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
قادیانی امت کے نام نہاد ’’خالد بن ولید‘‘ قادیانی امت نے اپنے متنبی کی اتباع میں وحدت امت کو ملیامیٹ کرنے اور مسلمانوں میں فکری انتشار پیداکرنے کے لئے اسلامی اصطلاحات کا جس بے دردی سے استعمال کیا اور ان مقدس ناموں کی جس قدر توہین کی ہے۔ ایک عامی تو درکنار، اچھے بھلے تعلیم یافتہ افراد کوبھی اس سے پوری شناسائی نہیں۔ مرزاغلام احمد کے لئے نبی اور رسول کا استعمال تو عام ہے۔ ان کی اہلیہ کے لئے ’’ام المؤمنین‘‘ جانشینوں کے لئے ’’خلیفہ‘‘ ان کے اوّلین پیروؤں کو ’’صحابہ‘‘ اور ’’رضی اﷲ عنہم‘‘ کا خطاب ہی نہیں دیا۔ بلکہ انہیں بمراحل اصحاب نبیﷺ سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ صحابہ سے ملا جو مجھ کو پایا کہنے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ ایک قرآنی آیت ’’یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کی لایعنی تاویلات کر کے اسے بانی جماعت پر چسپاں کیا جاتا ہے اور ایک دوسری آیت کی غلط توجیہ کرتے ہوئے موسس قادیانیت کی ’’بعثت‘‘ کو محمد رسول اﷲﷺ کی بعثت ثانیہ قرار دے کر اس کے ماننے والوں کو صحابہ سے افضل قرار دیا جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور صلحا امت کی توہین ہر قادیانی اس طرح کر جاتا ہے کہ سلب ایمان کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیںہوتا کہ وہ کیا ناپاک حرکت کر رہا ہے۔ حیرت ہے کہ آئین مملکت کے بارہ میں ژاژخائی کرنے پر تو قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ مگر قرآن مجید، حضرت خاتم النّبیین، صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور مقدس اسلامی اصطلاحات کے متعلق قادیانی امت کی دیدہ دلیری پر سرکاری مشینری کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اگر پوری تفصیل درج کی جائے تو بجائے خود اسی کی ایک کتاب بنتی ہے۔ اسی بے راہروی میں قادیانی امت کے پوپ دوم نے ملک عبدالرحمن خادم گجراتی، مولوی اﷲ دتہ جالندھری اور مولوی جلال الدین شمس کو ’’خالد بن ولید‘‘ کا خطاب دیا تھا کیونکہ ان ہرسہ افراد نے سب کچھ جان بوجھ کر جھوٹ بولنے، افتراء پردازی کرنے اور قادیانیت کی حمایت اور خلیفہ کی پاکبازی ثابت کرنے میں سب قوتیں ضائع کیں۔ گو یہ الگ امرہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر اسی گوسالہ سامری کی جانب سے ذلیل ترین الفاظ کا تحفہ ملا۔ کوئی ’’طاعونی چوہا‘‘ کہلایا اور کوئی ’’لندن میں رہنے کے باوجود مولوی کا مولوی ہی رہا۔‘‘ ان خطاب یافتہ پالتو مولویوں میں سے ایک کے متعلق اس کے سگے بھائی نے اپنی کتاب ’’ربوہ کا مذہبی آمر‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’وہ فن اغلامیات میں ید طولیٰ رکھتے تھے‘‘ دوسرے