احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ہے جو قیامت تک مکدر نہ ہوگی۔ آپ کے مقبرہ میں دفن ہونے والا بہشتی ہے۔ تمام علمائے دین سور، حرامزادہ، چوہڑے، چمار، کتے، ملعون، جہنمی اور سانپ ہیں۔ یسوع، اور مسیح کو آپ فحش گالیاں نکالتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ انہوں نے محض اپنے منوانے کے واسطے خون کی نہریں چلا دی تھیں اور زمین کو خون سے بھر دیا تھا۔ محمدﷺ تو خدا کا ایک بندہ تھا اور آپ کہتے ہیں کہ خدا میری حمد کرتا ہے۔ باوجود بددیانت، خائن، شکم پرور، نفس پرست، آرام طلب، کذاب، مغلوب الغضب، بدفہم اور متکبر ہونے کے آپ دعوے کرتے ہیں ؎ منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد (درثمین فارسی) آپ ساری دنیا کی تباہی اور تمام قوموں کی ذلت وہلاکت کے مشتاق ہیں اور دن رات اسی امید اور اسی طلب میں رہتے ہیں اور یہی دعا مانگتے رہتے ہیں کہ طاعون پھیلے اور دنیا تباہ ہو۔ براہین کے بہانہ سے ہزاروں روپیہ ٹھگا۔ پھر سراج منیر کے بہانہ سے۔ پھر کتابوں کی مفت اشاعت کے لئے ڈھائی سو روپیہ ماہوار۔ پھر طاعون اور توسیع مکان کے بہانہ سے۔ پھر مینارہ کے بہانہ سے اور بہشتی مقبرہ کے بہانہ سے۔ الغرض جس قدر غضبناک توہین خداتعالیٰ، وتذلیل انبیاء وتحقیر ایمان واعمال آپ کے وجود سے ہوئی ہے آج تک نہیں ہوئی تھی۔ انہیں بناؤں پر علمائے اسلام نے آپ کی تکفیر اور تکذیب کی اور آپ کو مرتد اور واجب القتل ٹھہرایا نہ کہ گورنمنٹ کی خیرخواہی اور منع جہاد پر۔ یہ مسائل تو میری تفاسیر اور تمام علمائے محققین کی تصانیف میں بھی موجود ہیں۔ سرسید احمد مرحوم نے ان امور میں اعلیٰ درجہ کا علمی اور عملی نمونہ پیش کیا۔ اگر محض خلاف جہاد اور وفاداری گورنمنٹ کی وجہ سے عبداللطیف مرتد ٹھہرایا جاتا اور قتل ہوتا تو آج امیر حبیب اﷲ خان، علی گڑھ کالج اور اسلامیہ کالج لاہور کی کیوں اس قدر تعریف کرتے اور ۲۰؍ہزار روپیہ نقد اور ۶ہزار روپیہ سالانہ سے امداد فرماتے۔ کیا ہی سچ ہے۔ ’’دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں۔‘‘ باب چہارم مرزا کی پیش گوئیاں مرزائے قادیانی کے اصول مشتہرہ کے مطابق قرآن اور حدیث کا کوئی لفظ قابل اعتبار