احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
پر اس قدر ہوتا ہے کہ وہ اس کو بیداری کا واقعہ سمجھ لیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزامحمود نے طب کی ایک کتاب نکال کر دکھادی کہ دیکھ لو۔ اطّباء نے بھی اس مرض کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مرید مطمئن ہوکر گھر واپس آیا تو اہلیہ کے استفسار کرنے پر مرید خاوند نے کہا۔ ’’تم بھی سچ کہتی ہو اور حضرت صاحب بھی سچ کہتے ہیں۔‘‘ مولوی محمد دین صاحب سابق ہیڈ ماسٹر حال صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے مرزامحمد حسین صاحب المعروف ’’ماسٹر بی کام‘‘ کو بتایا کہ جن دنوں مرزا عبدالحق، انجمن کے وکیل کے طور پر گورداسپور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ ایک روز وہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔ جیسا کہ دوسرے شاگرد آتے تھے تومیں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کی اہلیہ اب تک حضرت صاحب کو بدکردار سمجھتی ہیں اور واقعہ کی صحت پر مصر ہیں توانہوں نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘ اس سلسلہ میں عبدالرحمان صاحب آف ڈیرہ غازی خاں اور مرزا عبدالحق کے درمیان جو خط وکتابت ہوئی اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (نوٹ: وہ یہاں کتاب سے حذف کر دی ہے۔ اس لئے کہ وہ خود مستقل پمفلٹ اس کتاب میں دوسری جگہ درج ہیں۔ فقیر مرتب!) ایک احمدی خاتون کا بیان مذکورہ بالا عنوان کے تحت ایک مظلوم خاتون کا بیان اخبار مباہلہ قادیان میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ گو اس وقت یہ چیلنج بھی دے دیا گیا تھا کہ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے آمادہ ہوں تونام کے اظہار میں کوئی ادنیٰ تأمل بھی نہیں ہوگا۔ مگر چونکہ اس گوسالہ سامری کو مقابل پر نکلنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس لئے نام کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔ اب ہم ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر یہ درج کررہے ہیں کہ وہ خاتون قادیان کے دکاندار شیخ نورالدین صاحب کی صاحبزادی عائشہ تھیں۔ ان کے بھائی شیخ عبداﷲ المعروف عبداﷲ سوداگر آج کل ساہیوال میں مقیم ہیں۔ عائشہ بیگم تھوڑا عرصہ ہوا، انتقال کر گئی ہیں۔ اب ہم وہ بیان درج کرتے ہیں۔ ’’میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں؟ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا الزام لگایا جاسکے۔ الخ!