احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
۲۲… منشی مہتاب علی احمدی نے فیض اﷲ خاں کے ساتھ مباہلہ کیا۔ مگر فیض اﷲ خاں طاعون سے ہلاک ہوا۔ نتیجہ نمبر۸ سے نمبر۲۲ تک جن واقعات کو مرزاقادیانی نے نشانات بتایا ہے۔ یہ محض اتفاقات ہیں۔ ہزاروں شہروں اور دیہات میں جہاں جہاں مرزائی ہیں اکثر یہ معاملات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ کہیں مرزائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ بحث ہے۔ کہیں باہمی تکفیر وتکذیب اور ملاعنت ہے۔ کہیں مرزاقادیانی کی تردید دلائل سے کی جاتی ہے۔ کہیں بددعائیں دی جاتی ہیں اور کہیں گالیاں سنائی جاتی ہیں۔ جب ہزاروں جگہ ایسا ہوتا ہے تو دس بیس جگہ اموات کا ہونا بھی لازمی ہے۔ خاص کر ایسے زمانہ میں جب کہ ہندوستان میں دس بارہ ہزار اموات روزانہ پلیگ سے ہو رہی ہیں۔ دس بیس ایسی اموات کو جو مرزاقادیانی کے مکفرین، مکذبین، لاعنین وغیرہ میں واقعہ ہوئیں۔ ان کو مرزاقادیانی کے خلاف کا نتیجہ قرار دے دینا سراسر حماقت یا پرلے درجہ کی بے حیائی اور چالاکی ہے۔ اگر یہ طریق استدلال صحیح ہے تو جس قدر مرزائی مرتے جاتے ہیں ان کی نسبت تمام مسلمان کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی تکفیر، تکذیب اور بدخواہی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ کوئی مرزائی ایسا نہیں جس کو مسلمانوں کے ساتھ تنازع اور تلاعن کا موقعہ نہ ملتا ہو۔ کیا مرزاقادیانی اور مرزائی انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ کے حالات سے اس قسم کی بددعاؤں اور مباہلوں کا وجود ثابت کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی طرف سے جواب اہم ایک ناچیز گنہگار انسان ہے جس کو خداوند عالم نے فرمایا ہے۔ دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا۔ اس لئے وہ عاجز ان نشانات کا جواب بھی ترکی بہ ترکی عرض کرتا ہے۔ ۱… مولوی عبدالکریم نے میری تفسیر کا خلاف کیا تھا۔ اس لئے وہ کاربنکلز اور طاعونی نیومونیا کی نہایت دردناک موت سے ہلاک ہوا۔ ۲… مولوی محمد یوسف سنوری نے میری تفسیر کی نسبت خلاف الفاظ کہے تھے۔ وہ معہ فرزند خود طاعون سے ہلاک ہوا۔ ۳… محمد افضل ایڈیٹر البدر نے بدنیتی سے نکتہ چینی کی تھی۔ اس لئے وہ اور اس کا فرزند طاعون سے ہلاک ہوئے۔