احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
سند نہیں۔ مگر جب اپنا مطلب نکلتا دیکھا تو فوراً انہیں حدیثوں سے دلیل لانے لگے اور قرآنی آیات سے صاف انکار کرنے لگے۔ جن میں ارشاد ہے۔ ’’یسبح اﷲ ما فی السموات وما فی الارض (الجمعہ:۱) سبح اسم ربک الاعلیٰ (الاعلیٰ:۱)‘‘ خدا مرزاقادیانی کی تعریف کرتا ہے اور مجلس ہی میں بیٹھ کر مرزاقادیانی اپنی نسبت حمد یہ شعر بڑے شوق سے سنتے اور مریدوں سے تسبیح کرواتے ہیں۔ امید ہے کہ عنقریب یہ حکم بھی ہو جائے کہ اے لوگو! مجھے سجدہ کرو۔ کیونکہ میرا نام اﷲتعالیٰ نے آدم رکھا ہے اور آدم کے واسطے حکم ہے کہ ’’اسجدوا لادم‘‘ ۹… جب مرزائیوں سے کہا جائے کہ قرآن مجید میں باربار ارشاد ہے کہ کوئی نفس دوسرے نفس کے کام نہیں آسکتا۔ آنحضرتﷺ کو ارشاد ہے کہ جس سے تو محبت کرے تو اس کو ہدایت نہیں کر سکتا۔ نوح علیہ السلام کو بیٹے کی نسبت اور ابراہیم علیہ السلام کو آذر کی نسبت سفارش کرنے پر تنبیہ ہوتی ہے۔ پھر مرزاقادیانی کا یہ الہام کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ جس سے تو راضی اس سے خدا راضی۔ جس سے تو ناخوش اس سے خدا ناخوش؟ اور مرزاقادیانی کا مقبرہ دوسروں کے لئے نجات کا موجب کیسے ہوسکتا ہے؟ تو تمام آیات قرآنی کو لغو اور باطل سمجھ کر اور تعلیمات انبیاء علیہم السلام سے صاف انکار کر کے کہنے لگتے ہیں کہ خدا ایسوں کو ہی اس جگہ دفن ہونے کا سامان میسر کرے گا جو بہشتی ہوں تو ظاہر النظر میں قادیان اور اس کے قرب وجوار کے واسطے تو بہشت میں داخل ہونا نہایت آسان ہوا اور باقی دنیا کے لئے مشکل اور ناممکن۔ مثلاً مکہ، مدینہ اور بیت المقدس والوں کے واسطے عام طور پر اس بہشتی مقبرہ میں مدفون ہونا۔ ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ مرزاقادیانی کو باوجود اس قدر ثروت اور جماعت کے مدفن رسول اﷲ میں مدفون ہونا۔ ۱۰… جب میں نے باربار اپنے خطوط میں لکھا کہ جن لوگوں پر تبلیغ نہیں ہوئی وہ کیسے انکار اور خلاف کے مجرم ہوسکتے ہیں اور قرآنی آیات اس کے ثبوت میں پیش کیں۔ ’’لا یکلف اﷲ نفساً الا وسعہا (البقرۃ:۲۸۹) ما کنا معذبین حتّٰی نبعث رسولا (الاسراء:۱۵)‘‘ ان آیات سے صاف انکار کرتے رہے اور آنحضرتﷺ پر خودپرستی اور خونریزی کے الزام لگاتے رہے۔ مگر جب بابیوں کی جماعت امریکن کا حال سنا اور دیکھا کہ وہاں لوگوں میں اس کی قبولیت ہوکر خوب کام چل سکتا ہے تو جھٹ کہہ دیا کہ امریکہ کے لوگ اگر ہمارا انکار کریں تو ان کا حق ہے۔ جب تک ان پر پورے طور پر تبلیغ نہ ہو جائے اور محمد علی ایم۔اے کو حکم دیا کہ ایک مبسوط کتاب ہمارے دعا دینے پر تصنیف کر کے بھیجنی چاہئے۔ ۱۱… جب میں نے لکھا کہ جن لوگوں پر کسی رسول کی تبلیغ نہیں ہوئی ان میں سے ایسے لوگ