احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے بد گمانی کا اسے آزار ہے سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے ایک تو پلہ سے اس نے زر دیا دوسرے بدنام اپنے کو کیا کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا کچھ گھٹا ہر گز نہ اس کا اتقا بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بومسیلم آج احمد بن گئے عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں ظاہری افعال ان کے نیک ہیں سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں عالم و صوفی ہیں اور شب خیز ہیں مال پر لوگوں کے دندان تیز ہیں ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے جس طرح ہو مال کچھ کھا جائے کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائے ہو کوئی کیسا ہی گرچہ بدمعاش میوہ زر کی وہ دے دے ان کو قاش پھر تو وہ مقبول رحمن ہے ضرور ان کے دل کو اس نے پہنچایا سرور متقی ان کو نہ دے تو ہے شقی جو شقی دے ان کو ہے وہ متقی ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول جو کوئی دے ہاتھ کر دیں گے دراز اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ دینداری کی نہیں ہے کوئی بات علم ہے دنیا کمانے کے لئے دولت دنیا ہے کھانے کے لئے دل میں اپنے منفعل ہوتے نہیں ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں غیظ میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ اپنی چالاکی پہ اتراتے ہیں وہ اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب دیگر مہدی وقت ہے کوئی مشہور کوئی بنتا ہے عیسیٰ دوراں نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام و نشاں نہ فقیروں میں صبر باقی ہے نہ امیروں میں شکر کا ہے نشاں