احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تونہ تھے۔ مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے۔ جس کانام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے۔ اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگاسکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ننگی معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۲۴ء) مکروفریب ایک ایسی چیز ہے کہ انسان زیادہ دیر تک اس پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ دانستہ یا نادانستہ ایسی باتیں زبان پر آجاتی ہیں جن سے اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ خلیفہ صاحب نے اپنی ایک شادی کے موقع پر کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں خچر پر سوار ہوں اور اس کی تعبیر میں نے یہ کی ہے کہ اس بیوی سے اولاد نہیں ہوگی۔ اب واقعہ یہ ہے کہ اس بیوی سے کوئی اولاد نہیں اور خلیفہ قادیان کا یہ خواب اس پس منظر میں تھا کہ وہ ’’خاتون جوہرنسائیت‘‘ ہی سے محروم ہو چکی تھی۔ اب مرید اسے بھی اپنے پیر کا کمال سمجھتے ہیں کہ اس کی پیش گوئی کس طرح پوری ہوئی۔ حالانکہ یہ معاملہ پیش خبری کا نہیں ’’پیش بینی‘‘ بلکہ ’’دروں بینی‘‘ کاہے۔ خلیفہ جی کے ایک صاحبزادے کی رنگت اور شکل وشباہت سے کچھ ایسا اظہر ہوتا ہے کہ ان کی صورت ایک ’’ڈرائیور‘‘ سے ملتی ہے۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو ’’کار خاص‘‘ کے نمائندوں نے خلیفہ جی کو اطلاع دی اور انہوں نے انگریز عورتوں کے گھروں میں سیاہ فام بچے پیدا ہونے پر ایک خطبہ دے مارا۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی کہ اس پر ایک طویل مثالوں سے مزین لیکچر دیا جاتا۔ مگر کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا۔ ایسے ہی وہ اپنی ایک بیوی کی وفات پر اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’شادی سے پیشتر جب کہ مجھے گمان بھی نہ تھا کہ یہ لڑکی میری زوجیت میں آئے گی۔ ایک دن میں گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی سفید لباس پہنے سمٹی سمٹائی، شرمائی لجائی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی ہے۔‘‘ (سیرۃ ام طاہر شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ، ربوہ) اب سفید لباس پر نظر پڑ سکتی ہے۔ لیکن سمٹنے سمٹانے، شرمانے لجانے اور دیوار کے ساتھ کھڑے ہونے اور چہرے کی کیفیات کا تفصیلی معائنہ کسی نیک چلن انسان کا کام نہیں۔ ہمیں ’’رائل فیملی‘‘ کے کسی فرد کے بارے میں نیک چلنی کا حسن ظن نہیں۔ کیونکہ اس ماحول میں معجزۃً بچ جانا بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ مگر ہم ان کے بارے میں کف لسانی ہی کو پسند کرتے ہیں۔ چونکہ