احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
جو قادیانیت کی خاطر سب کچھ تج کر گئے تھے۔ ان میں خود مرزامحمودکے نہایت قریبی عزیز، ہم زلف اور برادران نسبتی تک شامل ہیں اور بالواسطہ شہادتوں میں ان کے پسران اور دختران تک کے بیانات موجود ہیں۔ جن کی آج تک تردید نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے۔ اس کا سبب اشاعت فحش سے اجتناب وگریز نہیں۔ بلکہ یہ حقیقت ہے کہ واقعات کی تصدیق کے لئے اس قدر ثبوت، شہادتیں اور قرائن موجود ہیں۔ جن کا انکار ناممکن ہے۔ ان الزامات کی صحت وصداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ان مریدین میں سے جو لوگ انتہائی اخلاص کے ساتھ قادیانیت کو سچا سمجھتے تھے اور مرزامحمود کو خلیفہ برحق مانتے تھے۔ ان کی رنگین راتوں سے واقف ہو کر نہ صرف قادیانیت سے علیحدہ ہوئے۔ بلکہ خدا کے وجود سے بھی منکر ہوگئے۔ ایک شخص کو پاکبازی کا مجسمہ مان کر اس کو ’’کاردگر‘‘ میں مشغول دیکھ کر جس قسم کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ یہ اس کالازمی نتیجہ ہے۔ ان میں سماعی یقین رکھنے والے لوگ ہی نہیں۔ عملی تجربہ سے گزرے ہوئے افراد بھی ہیں۔ دوسرا طبقہ مرزامحمود احمد کو تو ’’جولیس سیزر‘‘ کا ہم مشرب سمجھتا ہے۔ مگر کسی نہ کسی رنگ میں قادیانی عقائد سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ اسے ہر دو طبقہ کی عدم واقفیت یا جہالت کہیں۔ میرے نزدیک دونوں قسم کا ردعمل الزامات کی صحت پر برہان قاطع ہے۔ ماہرین جرمیات کا کہنا ہے کہ Perfect Crime وہ ہوتا ہے جو کبھی Trace نہ ہوسکے۔ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آدم سے لے کر آج تک ایک بھی ایسا جرم سرزد نہیں ہوا جو اصطلاحاً پرفیکٹ کرایم کہلا سکے۔ کیونکہ جرم ذہن کی Abnormal حالت میں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور ہو جاتی ہے۔ کوئی ایسا Flaw ضرور رہ جاتا ہے جس سے مجرم کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک قاتل نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں جار پانچ مقامات پر پھینک کر یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے قتل کے نشانہ تک کو مٹا دیا ہے۔ مگر عملاً وہ اتنے ہی مقامات پر اپنے جرم کے نشانات چھوڑ رہا ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر مرزامحمود کی تقاریر اور بیانات کا جائزہ لیں تو کئی شواہد ان کے جرائم کی چغلی کھاتے ہیں۔ پیرس میں عریاں رقص دیکھنے کا تذکرہ خود انہوں نے اپنی زبان سے کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اﷲخان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ