احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
اس پر بدکاری کے الزامات لگتے رہے۔ مباہلے کی دعوتیں دی جاتی رہیں۔مگر وہاں ایک خامشی تھی سب کے جواب میں، جوں جوں وقت گزرتا گیا بڑے بڑے مخلص مرید واقف راز ہوکر ایک ہی نوعیت کے الزامات لگاکر علیحدہ ہوتے گئے اور انسانیت سوز بائیکاٹ کا شکار ہوتے رہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ تین تین یا پانچ پانچ سال بعد الزامات لگانے والے ایک دوسرے سے قطعاً ناآشنا ہیں۔ مگر الزامات کی نوعیت ایک ہی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ مرزامحمودیا اس کے خاندان کے افراد نے کبھی بھی حلف مؤکد بعذاب اٹھا کر اپنے ’’مصلح موعود‘‘ کی پاکیزگی کی قسم نہیں کھائی۔ مرزامحمود کی سیرت کے تذکرہ میں ان کی ازواج اور بعض دیگر رشتہ داروں کا نام بھی آیا ہے۔ ہم ان کے نام حذف کر دیتے۔ کیونکہ وہ ہمارے مخاطب نہیں۔ لیکن اس خیال سے کہ ریکارڈ درست رہے۔ نیز اس بناء پر کہ وہ بھی اس بدکار اعظم کی شریک جرم ہیں۔ ہم نے ان کے نام بھی اسی طرح رہنے دئیے ہیں۔ حال ہی میں ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ کراچی (۱۴؍مارچ ۱۹۷۹ء) سے متعلق ایک صحافی خاتون نے خلیفہ جی کی ایک سراپا مہربیوی سے پوچھا کہ اتنی کمسنی میں آپ کی شادی مرزامحمود ایسے بوڑھے سے کیسے ہوگئی تو انہوں نے جواباً کہا جیسے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شادی حصورﷺ سے ہوگئی تھی۔ (معاذ اﷲ! مرتب) اس جواب سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس ظلمت کدے کا ہر فرد مقدسین امت پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم سعی کس دیدہ دلیری سے کرتا ہے اور پھر ہمارے بعض اخبار نویس حضرات کس بے خبری سے اسے اچھالتے اور اجالتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سراپا مہر بیوی وہ ہیں جن کے بارے میں ان کی خلوتوں کے ایک رازدار کا بیان عرصہ ہوا طبع ہوچکا ہے کہ ان کے موئے زہار موجود نہیں ہیں اور ان کی ’’بے رحمی‘‘ ایک ایسا امر ہے جس سے ہر باخبر قادیانی واقف ہے۔ ایک قادیانی مبلغ نے اپنی اہلیہ کے حوالے سے مؤلف کو حلفاً بتایا کہ ان صاحبہ نے خود اس پالتو مولوی کی بیوی کو بتایا کہ ’’میں بے رحم ہوں‘‘ میں ان کا نام بھی لکھ سکتا ہوں۔ مگر اس خیال سے کہ کہیں اس کی گزارہ الاؤنس والی ملازمت ختم نہ ہو جائے۔ اس سے احتراز کرتا ہوں یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں کسی بھی کلینک میں چیک کیا جاسکتا ہے۔ یہ ضیاع کس کشتی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس کا تحریر میں لانا مناسب نہیں۔ صرف ان سے اتنی گزارش ہے کہ وہ آئندہ حضرت خاتم الانبیاءﷺ یا کسی اور مقدس ہستی پر الزام تراشی سے باز رہیں۔ ورنہ ساری داستان کھول دی جائے گی اور ’’پھوپھا جی‘‘ کی کارکردگی الم نشرح ہو جائے گی۔ مرزامحمود احمد کی ’’جنسی عدوان‘‘ پر جن لوگوں نے مؤکد بعذاب قسمیں کھائی ہیں یا ان کی زندگی کے اس پہلو سے نقاب سرکائی ہے۔ ان کا تعلق مخالفین سے نہیں ایسے مریدوں سے ہے