احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
بیگ پلیگ سے فوت ہوگیا۔ ایسا ہی مرزاقادیانی کے الہامات میں بعض اجزاء پورے ہو جاتے اور اکثر غلط نکلتے ہیں۔ جیسا کہ نمونتاً تیرہ پیش گوئیوں میں بیان کیاجاچکا۔ آخر کار جب سے یہ معلوم ہوا کہ بجائے حمایت اسلام کے مرزاقادیانی تو اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہا ہے۔ خداوند عالم کی عظمت وجلال ظاہر کرنے کی بجائے اپنی خدائی قائم کر رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے بروز کا دعویٰ کر کے اپنی نفس پرستی وشکم پروری، خلاف مہدی، کذب، تکبر، سنگدلی، بے رحمی، ذاتی مشیخت، بدعقلی، بدفہمی، توہین فطرت، توہین باری تعالیٰ، توہین اسلام اور ان پاک نفسوں کو بدنام کر رہا ہے۔ قرآنی بیّنات اور احادیث صحیحہ سے نہ صرف اعراض کرتا بلکہ تاویلوں سے شاعرانہ طور پر نئے نئے معنی گھڑتا ہے۔ تب میں چونکا اور خواب غفلت سے بیدار ہوکر جو غور کیا۔ خط وکتابت شروع کی اور مخالف تصانیف کو دیکھا تو ثابت ہوا کہ تمام مرزائی تاروپود نفسانی اعراض کے واسطے ایک سخت دجل ہے اور اسلام کا سخت دشمن، جو دلائل ازروئے قرآن وحدیث میں نے مرزاقادیانی کی تائید میں مرزائی تصانیف سے اقتباس کر کے اپنی تفاسیر میں درج کی تھیں وہ غلط تھیں۔ مرزاقادیانی نے ان میں بڑے دھوکہ دئیے ہیں۔ موضوع احادیث پر تک بندیاں کر کے صحیح احادیث کو رد کیا ہے۔ شاعرانہ رنگ میں اصل الفاظ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں ہیں۔ اس لئے میں نے ان تمام مضامین کو مشتبہ اور غلط سمجھ کر اپنی تفاسیر سے نکال دیا اور جن صاحبوں کے نام تفاسیر جاچکی تھیں ان کے نام حالیہ ترمیم وتردید چھپوا کر مفت بصیغہ پیڈ روانہ کر رہا ہوں ؎ بر رسولاں بلاغ باشد وبس کیا مرزاقادیانی کی پہلی کتابوں میں جو غلط مضامین شائع ہوتے رہے۔مثلاً براہین احمدیہ، ازالہ اوہام وغیرہ میں تو کیا مرزاقادیانی نے ان تمام کو واپس منگا کر اور ان کی قیمت ادا کر کے جلادیا ہے؟ مرزاقادیانی نے تو ان کی ترمیمات وتردیدات کے اوراق بھی علیحدہ شائع نہیں کئے۔ قرآن مجید میں ایک شخص کی نظیر موجود ہے۔ جس کو نشانات عطاء ہوئے تھے پھر اس سے وہ چھینے گئے جو مرزاقادیانی کے عین مطابق حال ہے۔ ’’واتل علیہم نبا الذی اٰتینہ اٰیتنا فانسلخ منہا فاتبعہ الشیطٰن فکان من الغٰوین۰ ولو شئنا لرفعنٰہ بہا وٰلکنّہ اخلد الیٰ الارض واتبع ہوٰہ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلہث اویترکتہ یلہث ذلک مثل القوم الذین کذّبوا باٰیتنا فاقصص القصص لعلہم یتفکرون‘‘ اور ان پر اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ پھر اس سے