احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
چھین لیں۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو اس کے سبب ہم اس کے مدارج بلند کرتے۔ مگر وہ زمین کی طرف پڑا رہا۔ گری ہوئی خواہش کا تابع ہو۔ پس اس کی مثال کتے کی مثال ہے کہ اگر تو اس کو کچھ لادے تو ہانپے اور اگر اس کو چھوڑ دے تب ہانپے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ پس (نصیحت آمیز) قصہ بیان کرتا رہ تاکہ وہ فکر کریں۔ مرزاقادیانی کو بیشک آیات ملیں تھیں۔ اگر وہ نفس پرستی، زرطلبی اور تکبر میں غرق نہ ہوتا۔ آیات قرآنی واحادیث صحیحہ کی تکذیب ومخالفت نہ کرتا اور فطرت اﷲ کو لعنت قرار نہ دیتا تو اﷲ کریم اس کے مقامات کو ضرور بلند کرتا۔ مگر وہ زمین کی طرف جھکا رہا۔ اس لئے نفس پرستی اور ذاتی مشیخت کے سوائے اب اس کا کوئی شغل نہیں۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘ خود المسیح الدجال کی ترکیب میں اشارہ ہے کہ پہلے وہ مسیح ہوگا یا مسیح مانا جائے گا۔ مگر بعد میں دجال ثابت ہوگا اور المسیح الدجال کہلائے گا۔ مرزاقادیانی کے خلاف ایک الہام: ’’میں خدائے واحد کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے ایسا ہی الہام ہوا۔ میںنے خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں، میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس میں جھوٹا نکلوں تو وہ سب سزائیں عملاً اٹھانے کو تیار ہوں جو شیطان کادیانی نے آتھم کی پیش گوئی کے عدم وقوع پر عملاً اٹھائیں تھیں۔ غرضیکہ فیصلہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کو ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۰ء سے مدت بضع سنین کے اندر ایک عجیب وغریب موت کے ساتھ ہاویہ میں گرائے گا۔ یہ موت ایسی ہوگی جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ بشرطیکہ وہ اپنی دعاوی باطلہ سے نادم ہوکر راجع الیٰ الحق نہ ہو میں نے موت کے عجیب ہونے میں کچھ تعجب کیا تھا کہ واﷲ اعلم! وہ کیسی موت ہوگی۔ مگر اﷲ تعالیٰ نے اس کا نقشہ میرے تصور میں کھینچ دیا۔ جس کے متصور ہوتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یعنی کادیانی کا پیٹ اتال کی طرح پھولا ہے۔ آنکھوں کی سفیدی زردی سے مبدل ہوگئی ہے۔ ناک عریض ہوکر اخنس کی طرح بیٹھ گئی ہے اور ہونٹ آگے کو بڑھ گئے ہیں اور کان بھی برعز کی طرح کسی قدر لمبے ہوگئے ہیں۔ بات کرنا چاہتا ہے۔ مگر زبان سکڑ کر اندر کو کھنچ گئی ہے اور بات نہیں کر سکتا۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا۔ زمین وآسمان ٹل جائیں مگر خدا کی باتیں نہیں ٹل سکتیں۔ اس روز بہت بے ایمان، ایماندار بن جائیں گے اور بہت سے مردود زمرہ مقبولین میں شامل ہونے کی خواہش کریں گے۔ فقط: ’’وما علینا الا البلاغ‘‘ المشتہر: غلام احمد امرتسری! تمت