احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
۲… کیا قرآن شریف میں اس کی کوئی نظیر آپ پیش کر سکتے ہیں؟ ۳… جن آیات سے آپ نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کا استنباط کیا ہے کیا ان آیات سے اب بھی وہی مضمون نکلتا ہے یا نہیں؟ اور وہ آیات حضرت مسیح موعود کی سچائی کی مثبت ہیں یا نہیں؟ ۴… جس قدر لوگوںکو آپ نے اس تفسیر کے ذریعہ گمراہ کیا ہے (کیونکہ اب یہی کہا جاوے گا) اس کی تلافی کیونکر ممکن ہوگی؟ ۵… کیا اب آپ ان سب خریداروں کو ان کی قیمت واپس دے کر ان کتابوں کو جلا دیں گے یا نہیں؟ جواب… اوّل تو ایسے سوالات کرنے کا حق… مرزاقادیانی یا مرزائیوں کو مطلق حاصل نہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں ایک کروڑ مسلمانوں کا اس وقت اہل الہام ہونا ظاہر کیا۔ پھر اب ان تمام کو کافر اور غیرناجی قرار دیا جارہا ہے۔ عباس علی صوفی کی بابت الہام شائع کیا۔ ’’اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء‘‘ پھر وہ مرزاقادیانی کا مخالف ہوا۔ مسیح علیہ السلام کے نشانات کو مکروہ اور قابل نفرت بیان کیا۔ مرزاقادیانی کو آسمانی منکوحہ کی نسبت وعدہ ملا کہ خدا اس کو واپس لائے گا تیرے پاس اور اﷲ ان تمام کے مقابلہ پر تیرے لئے کافی ہوگا۔ مگر وہ وعدہ جھوٹ ثابت ہو۔ الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ کو بے شر انسان اور ملہم من اﷲ مان کر اس کی کتاب کو جو سراسر قرآن وحدیث ہے اور زہر بتلایا میری تفسیر کی بابت پہلے شائع کیا۔ شیریں بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ نہایت عمدہ ہے دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔ مگر اب لکھتاہے کہ ہمیں روحانیت نہیں۔ عبدالحکیم اس کا اہل نہ تھا۔ اس کا دیکھنا تضیع اوقات ہے۔ دوم… تحقیقی جواب یہ ہے کہ خبث نفس نگردد بسالہا معلوم۔ حسن ظنی کے طور پر براہین احمدیہ کا اشتہار دیکھ کر میں معتقد ہوا تھا کہ اسلام کی فضیلت وحقانیت تمام ادیان عالم پر تین سو قوی اور بے نظیر دلائل سے مرزاقادیانی کے ہاتھ پر ثابت ہوگی۔ بیس سال تک ان کے انتظار میں خاموش رہا۔ غلبہ حسن ظنی کی وجہ سے ان کے موافق خوابات بھی مجھ کو آتے رہے۔ جیسا کہ تثلیث پرستوں کو مسیح علیہ السلام، خدائی کی نسبت آیا کرتے ہیں اور مشرکین کو اپنے اپنے بتوں اور اوتاروں اور دیویوں اور دیوتاؤں کی نسبت اور ان میں سے بعض اجزاء سچی پیشین گوئیاں ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح پر محمد حسین بیگ والا خوب مجھ کو دکھایا گیا اور اس کا ایک جز پورا بھی ہوگیا۔ یعنی محمد حسین بیگ