احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
رسائل ماہوار وغیرہ کا کہیں نام ونشان نہیں۔ جو کتابیں نکلتی بھی ہیں ان کی قیمت اصل سے تین چار گنی زیادہ وصول کی جاتی ہے۔ تمام چندہ بمعہ مدزکوٰۃ سب بلا حساب پیٹ میں ہی ہضم ہورہی ہے۔ کیا تمام نبی اور رسول ایسی ہی بدعہد اور شکم پرور تھی؟ کیا عمل قابل متابعت ہے۔ اے نورالدین آپ نے مرزاقادیانی کو رسول مان کر اطیعون تو سنا دیا پر ان کے عملوں کو بھی دیکھا کہ وہ عمل انبیاء علیہم السلام کی طرح واجب الاطاعت بھی ہیں یا نہیں؟ دوم… کذب بیانی: جب براہین کی طبع کے واسطے تو روپیہ موجود نہیں تھا نہ چھوٹے سے رسالہ سراج منیر کے لئے۔ پھر ہزاروں روپیہ کے انعامی اشتہار کیسے دئیے گئے۔ کیا یہ کذب میں داخل نہیں؟ فہرست حاضرین جلسہ ۱۹۹۳ء کی فہرست جو دافع الوساوس میں شائع ہوئی تھی۔ حدیث کدعہ کے بعد اس میں تراش خراش کر کے ۳۱۳ کی تعداد انجام آتھم میں شائع کی گئی۔ کیا یہ کذب نہیں؟ بلا علم غیب لوگوں کو حرام زادہ اور بددیانت کہنا کذب نہیں ہے؟ تو کیا ہم بھی اسی طرح جھوٹ بولا کریں۔ تاکہ ان کی متابعت پوری پوری ہو جائے؟ سوم… فحش گوئی: بیچارے مولویوں کو جو محض اسلام کی خاطر خلاف کرتے رہے ان کو ولد الحرام، خنازیر، کور چشم، درندہ، ذریعت شیطان، حرام زادہ، شیطان، دیو، گمراہ، فرعون، خبیث القلب ان پر لعنتوں کی جوتیاں پڑیں۔ ہزاروں لاکھوں بار۔ اندھیرے کے کیڑے، اوباش، لومڑی۔ تمام دنیا سے بدتر دجال، بطال، جھوٹ کا گوہ کھایا، چوہڑے چمار، جاہل وحشی، سور ، بندر، زندیق، ساہنسی، کتے، بچھو، مادرزاد اندھے، مردارخور مولوی،نمک حرام، ہامان، ہندوزادہ تو پھر کیا یہ عمل مرزاقادیانی کا واجب الاطاعت ہے؟ اور ہم دن رات لوگوں کو فحش گالیاں نکالا کریں؟ یا قرآن کریم کی اطاعت کریں جو فرماتا ہے۔ ’’لا تسبو الذین یدعون من دون اﷲ‘‘ یا ارشاد خاتم النّبیین کو جو فرماتے ہیں: ’’لیس المؤمن باالطعن ولا باللعان ولا الفاحش والا البذی‘‘ چہارم… آرام طلبی اور شکم پروری: مرزاقادیانی کا تو یہ حال ہے کہ اسلامی خدمت کے نام پر سات آٹھ سو روپیہ ماہوار چندہ جمع کیا۔ خود مزے سے کھایا اور دوسروں کو کھلایا۔ عنبر، مشک، کیوڑا، بیدمشک، مقویات محرکات اور مغز جات بکثرت استعمال ہوتے رہے۔ ایک عبدالکریم کی بیماری میں من ڈیڑھ من پختہ برف لگاتار لاہور سے آتی رہی۔ بیوی صاحبہ کے پاس زیور اور روپیہ اس قدر ہوگیا کہ مرزاقادیانی نے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد ان سے لے کر اپنا باغ تیس سال کی میعاد پر ان کے پاس رہن رکھا۔ سفر بھی کیا تو محض بیوی صاحبہ کی خاطر سیکنڈ کلاس میں