احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ان کو ملی ہیں باطل ہیں۔ پھر جو حکم مرزاقادیانی کی طرف سے پہنچتا ہے وہ بیشک خدا کا حکم ہے۔ اس کے بعد اگر وہ عمداً حکم الٰہی کا خلاف کریں تب وہ بیشک مجرم اور قابل سزا ہیں۔ اے نورالدین یہ باتیں آپ کی شان سے بہت بعید ہیں۔ ۱۱… نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ رب العالمین کا سچا کلام ہے۔ چونکہ محمد مصطفیٰﷺ رحمت اللعالمین تھے نہ کہ مرزاقادیانی کی طرح دنیا کے خون کے پیاسے۔ اس لئے سخت سے سخت دکھ اور ذلت اٹھا کر بھی آپ کے اندر انتقامی جوش پیدا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ رحم ہی جوش میں تھا۔ اس لئے مکہ والوں پر عذاب ہجرت کے بعد آیا۔ بٹالہ، امرتسر اور لاہور میں بھی تو مرزاقادیانی کی سخت مخالفت ہورہی ہے۔ پھر وہ کیوں نہیں ہلاک ہوتے۔ مگر سانس فرانسسکو، فارموسا، اٹلی اور کولمبیا اور ایکوڈور تباہ ہوگئے۔ اے نورالدین ایسی اندھی باتیں تو آپ کے علم اور فہم اور خلوص سے بہت بعید ہیں۔ کیا سچ ہے ’’حب الشیٔ یعمی ویصتم‘‘ ۱۲… انبیاء علیہم السلام کی اطاعت نجات کا آسان اور سیدھا راستہ ہے اور دانستہ ان سے انکارکرنا یا ان کی مخالفت کرنا شقاوت اور بے ایمانی کی دلیل ہے۔ آسمانی کتابوں میں جہاں اورہزاروں حکم ہیں ان میں اطاعت رسول کا حکم بھی بکثرت ہے۔ مگر ان تمام میں سب سے بڑا حکم جس کے بغیر نجات مل ہی نہیں سکتی۔ وہ توحید ہے۔ جیسا کہ آیات ذیل سے صاف ظاہر ہے۔ ’’ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء بلیٰ من اسلم وجہہ ﷲ وہو محسن فلہ اجرہ عند ربہ فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون‘‘ ۱۳… ایمان کے لوازمات محض اسی قدر نہیں جو ان آیات میں مذکور ہوئے بلکہ تمام قرآن پر علیٰ التناسب عامل ہونا لازمی ہے۔ تمام آوامر کی پابندی اور تمام لغو نواہی سے بچنا اور تمام عقائد پر ایمان رکھنا لوازمات ایمان وتقویٰ میں سے ہیں۔ مگر کم سے کم درجہ ایمان وتقویٰ کا جو کشفی نجات ہوسکتا ہے وہ بحکم قرآن وحدیث اسی قدر ہے۔ ’’من قال لا الہ الا اﷲ فدخل الجنۃ‘‘ نور الدین اور ایسے مغالطہ آمیز دلائل۔ ۱۴… ہاں! بے شک ہرگناہ کی سزا ہے۔ قتل عمدگی سزا جہنم ہے۔ ایسا ہی ہر جرم کی سزا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ظاہری مجسٹریٹ تمام جرم کی سزا قانون کے مطابق پوری نہیں دیا کرتے۔ خدائے عالم تو ارحم الرحمن اور مختار مطلق ہے۔ اس کی شان ہے: ’’یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء‘‘ وہ جس کو چاہے معاف بھی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے: ’’ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء‘‘ ایسا ہی خلاف مہدی اس طرف اور کذب کے