احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
فیصدی ہیں۔ کیونکہ وہ عام طور پر مرزاقادیانی کی نسبت مان رہے ہیں: ’’انت منی وانا منک انت منی بمنزلۃ اولادی۰ اﷲ یحمدک من العرش۰ لولاک لما خلقت الا افلاک‘‘ اس آخری الہام سے تو ظاہر ہے کہ تمام انبیاء بھی مرزاقادیانی کی خاطر ہی پیدا ہوئے تھے۔ ’’کہ بردورش رسولاں ناز کردند‘‘ بھی اسی تحقیر رسل کا مصداق ہے۔ پھر منارہ اور بہشتی مقبرہ کے واسطے جندہ دے کر یہ لوگ شرک کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ ۹… رسولوں کی عمداً خلاف ورزی بے شک شقاوت اور بے ایمانی کی علامت ہے۔ مگر مرزا تو رسول نہیں۔ چنانچہ وہ اپنے الہامی قصیدہ میں خود ظاہرکر چکا ہے۔ من نیستم رسول ونیاوردہ ام کتاب ہاں ملہم ہستم و زخداوند منذرم اس کی خلاف ورزی سے کوئی شخص بے ایمان یا کافر نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اس خط کی ذیل۲ میں خود مرزاقادیانی کے اقوال درج ہیں۔ جن میں وہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مجھ جیسے دس ہزار مثیل مسیح امت محمدیہ میں ہوسکتے ہیں۔ ۱۰… یہ غلط اور سراسر جھوٹ ہے کہ ایک رسول کے آنے سے سارا جہان پکڑا جاتا ہے بلکہ جو آیت آپ نے نقل کی اس میں امم کا لفظ ہے اور ایک دوسرے آیت میں ہے: ’’وما ارسلنا فی قریۃ من نبی الّا اخذنا اہلہا بالباسآء والضرآء لعلہم یضرعون‘‘ اس آیت میں فی قریۃً اور اہلہا کا لفظ صاف بتلا رہے ہیں کہ جس قریہ میں کوئی نبی آتا ہے اور صاف طور پر اپنے بیان اور نشانات سے تبلیغ کرتا ہے۔ تب وہاں کے لوگ مصائب اور نقصانات اٹھاتے ہیں نہ کہ دور دراز دیہات اور امصار کے لوگ۔ جن کو اس نبی کی خبر تک بھی نہیں ہوتی۔ ایسا ہی آیات ذیل سے ظاہر ہے: ’’وان من قریۃ الا خلافیا نذیر وان من امۃ الا خلافیہا نذیر‘‘ چنانچہ واقعات سے بھی یہی نبوت ملنا ہے کہ موسیٰ علیہم السلام کی مخالفت سے فرعون اور اس کا لشکر تباہ ہوئے۔ ایسا ہی قارون معہ اپنے آدمیوں کی ایک ہوا، ایسا ہی اقوام ہود وصالح ونوح ولوط وغیرہ علیہم السلام کا حال ہوا۔ آنحضرتﷺ کی مخالفت سے گردن کشاں مکہ ہلاک ہوئے اور وہ بھی کامل تبلیغ اور سخت مکالفت کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کی مخالفت تو مکہ میں ہوئی اور ہلاک ہوئے کلکتہ، عدن، جاپان، روس،کانگڑہ، فارموسا اور سانس فرانسسکو۔ یہ ایک صاف بات ہے کہ مرزاقادیانی کی خلاف ورزی کے مجرم وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن پر پہلے تو یہ بات ثابت ہو جائے کہ… فی الحقیقت مرزاقادیانی خدا کا مرسل ہے۔ پھر یہ ثابت ہو جائے کہ جو تعلیمیں پہلے سے ان