احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
’’سچ تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کئی کروڑ ایسے بندے ہوں گے جن کوالہام ہوتا ہوگا۔‘‘ (ضرورۃ الامام ص۴، خزائن ج۱۳ ص۴۷۴) ۳… خداوند عالم کی حکمتیں اور قدرتیں لاانتہاء ہیں۔ ایسا ہی اس کے قوانین رحمت ومغفرت بھی۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’لا یحیطون بشیٔ من علمہ الا بما شاء لا علم لنا الا ما علمتنا یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء یعذب من یشاء ویرحم من یشاء قل لو کان البحر مداد الکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولؤ جئنا بمثلہ مدداً‘‘ پس ایسے صاف مسئلہ پر بحث کرنا نہ محض عمداً قرآن مجید کا خلاف کرناہے بلکہ عام مشاہدہ قدرت کو بھی جھٹلانا ہے۔ کیونکہ خدا کی قدرتوں اور حکمتوں کا غیر محدود ہونا عالم کے ذرہ ذر سے ظاہر ہے۔ جسکی تحقیقات میں تمام حکماء آج تک حیران وسرگردان ہیں۔ ۴… میں نے یہ کب کہا کہ میری خلاف ورزی سے کوئی مجرم ٹھہر سکتا ہے۔میں تو صریح اعراض ومخالفت دیکھ کر آیت قرآنی پیش کی ہے۔ ’’ومن اظلم ممن ذکر باٰیٰت ربہ ثم اعرض عنیہا انا من البحر من منتقمون‘‘ ۵… دائرہ نجات کو تنگ یا وسیع کرنے والا میں کون ہوں۔ ہاں بحکم ’’لا علم لنا الا ما علمتنا‘‘ میں نے چند آیات قرآنی پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مدار نجات کسی ایک انسان کے ماننے یا نہ ماننے پر منحر نہیں بلکہ خدا کے ماننے اور اعمال صالحہ پر منحصر ہے۔ ۶… ’’لا علم لنا الا ما علّمتنا‘‘ خداوند عالم کے پیارے رسول کو معرفت ہمیں اس قدر علم ضرور ملا ہے۔ ’’من قال لا الہ الا اﷲ فدخل الجنۃ‘‘ قران کریم نے بھی فرمایا ہے۔ ’’وسعت رحمتی کل شیٔ‘‘ ۷… میں نے یہ کب کہا کہ رب العالمین نے دو ارب انسانوں کے واسطے ہدایت اور کامیابی کا کوئی راستہ نہیں رکھا۔ بلکہ میں تو اسی پاک کتاب میں جو تذکرۃ اللعالمین ہے صاف پاتا ہوں۔ ’’حدیناہ السبیل امّا شاکراً وامّا کفوراً ونفس وماسوہا فالہمہا فجورہا وتقوٰہا قد افلح من ذکہا وقد خاب من دسہا فطرۃ اﷲ التی فطرالناس علیہا لا تبدیل لخلق اﷲ ذلک الذین القیم لہ اسلم من فی السمٰوٰت والارض طوعاً وکرہا والیہ یرجعون‘‘ ۸… اگر عام مسلمانوں میں اس وقت پچاس فیصدی مشرک ہوں تو مرزائیوں میں ننانوے