احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
میری حالت جیسی غیبت میں رہتی تھی وہی مرزاقادیانی کی صحبت میں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں لوگ بیعت میں داخل ہوکر اور صحبت کے نتائج دیکھ کر منحرف ہوتے رہے۔ مثلاً منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ ومنشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ وحافظ محمد یوسف وصوفی عباس علی، میاں فتح خاں، محمد سعید خاں وغیرہ میں بھی یہی دیکھ رہا ہوں کہ روز بروز دانی مشیخت کے خیالات ترقی پر ہیں۔ قرآنی عظمت ومحبت دلوں سے اٹھتی جارہی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کو حقیر کیا جارہا ہے۔ کیا ’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘ میں وہ انصرام بہشتی مقبرہ میں تمام انبیاء کی سخت توہین وتحقیر نہیں ہے۔ ایک وقت تو مرزاقادیانی تحریر فرماتے تھے۔ ’’میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی شخص کافر دجال نہیں ہوسکتا۔ میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا ہوں۔‘‘ ’’کبھی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲،۴۳۳) ’’اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ملہم ومحدث کیسا ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘ (تریاق القلوب حاشیہ ص۱۳۱، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲) سید عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا اے عبدالقادر جیلانی تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔ اب جو دوسروں پر حرام ہے وہ تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہوئی جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا اے شیطان دور ہو وہ باتیں میرے لئے کب روا ہوسکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں۔ تب شیطان معہ اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہوگیا… کاہنوں کو بکثرت شیطان الہام ہوتے اور بعض وقت وہ پیش گوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کرتے تھے۔ (ضرورۃ الامام ص۱۷، خزائن ج۱۳ ص۴۸۷،۴۸۸) ’’میرا یہ دعویٰ نہیں کہ دمشق مین کوئی مثیل مسیح پیداہوجائے۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا یا میرے نام پر ختم ہوگیا بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح آجائیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۹۹،۲۰۰، خزائن ج۳ ص۱۹۷) ’’مجددد صاحب سرہندی نے ایک کشف میں دیکھا کہ آنحضرتﷺ کو ان کے طفیل خلیل اﷲ کا مرتبہ ملا اور اس سے بڑھ کر شاہ ولی اﷲنے دیکھا کہ گویا آنحضرتﷺ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ مگر انہوں نے بہ باعث بسط علم کے وہ خیال نہ کیا۔ بلکہ تاویل کی۔‘‘ (ضرورۃ الامام ص۳۰، خزائن ج۱۳ ص۵۰۰)