احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
کہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک مرزاقادیانی کی کون سی تصویر صحیح ہے۔ کیونکہ آپ ان کو دیکھ چکے ہیں۔ نتیجہ تمام خط وکتابت بالا سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کو اس وقت اصلاح جماعت اور ہمدردی خلائق سے کچھ غرض نہیں۔ بلکہ سخت اغراض ہے۔ اغلباً وہ ڈرتے ہیں کہ جماعت کی نکتہ چینی اور اصلاحی تدابیر میں جماعت کے اختلاف اور انتشار کا اندیشہ ہے اور بدنامی بھی ہے۔ اس لئے وہ محض تجاویز اصلاحی سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ ازخود رفتہ ہوکر شروع سے ہی تردید وتکفیر پر تل پڑے۔ نہ قرآن واسلام سے کچھ تعلق ہے۔ کیونکہ جس قدر فریاد میں نے کی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوئی۔ توحید وتمجید وتحمید وتہلیل اور تقدیس باری تعالیٰ کے متعلق میں نے ہر چند شور مچایا اور عظمت انبیاء پر بہت کچھ لکھااور کھول کھول کر بیان کیا کہ آپ کا یہ مسئلہ خداوند عالم کو ماننا اور عالم کو ماننا اور اعمال صالحہ میں کوشش کرنا بلکہ مسلمان بننا بھی مکتفی نجات نہیں ہوسکتا۔ جب تک مرزاغلام احمد کو مدار نجات نہ ٹھہرایا جائے۔ تمام توحید وتحمید وتہلیل اور تقدیس باری تعالیٰ کو بیخ وبن سے اکھاڑ دینے والا، تمام انبیاء کا نام دنیا سے مٹا دینے والا۔ قرآنی وحی کو ذلیل اور نابود کرنے والا۔ شرک کو پھیلانے والا اور آپ کی خدائی قائم کرنے والا ہے۔ پھر مینار اور قبرستان بت پرستی اور قبر پرستی کی عملی بنیاد ہیں۔ آپ کے الہامات جدید مشرک پسند طبیعتوں کے واسطے آپ کے خداہونے پر علمی دلائل ہیں۔ مثلاً الہامات ذیل خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ تو مجھے ایسا ہی جیسا کہ میری اولاد۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ میںنے چشم دید واقعات کی بناء پر ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ پر اور کوئی چیز نہیں بلکہ ایک ناقص العلم، ناقص الفہم، ناقص العمل، ضعیف الخلقت، زود ورنج، شتاب کار اور نہایت ہی تنگ ظرف انسان ہیں۔ ان تمام امور کا ثبوت آپ نے اپنی موجودہ خط وکتابت میں خود اپنے قلم سے دے دیا۔ آپ انبیاء علیہم السلام کے مظہر یا بروز ایسے ہی بعینہ طور پر ہیں۔ جیسا کہ آپ شمس وقمر ہیں۔ مگر افسوس کہ ان تمام صاف صاف اور واقعی باتوں کی طرف آپ کو مطلق توجہ نہ ہوئی۔ بلکہ ایک مجنون انسان یا کانے دجال کی طرح آپ کی نظر اپنی مشیخت اور کبریائی کی ہی طرف رہی اور باربار یہی لکھتے رہے کہ خدا کو ماننا۔ محمد کو ماننا، اعمال صالحہ اور تمام اسلام کی پابندی لغو اور باطل ہے۔ جب تک مرزغلام احمد کو مدار نجات نہ ٹھہرایا جائے۔ ’’نعوذ باﷲ، نعوذ باﷲ۰ ان ہذا لظلم عظیم۰ ان ہو الا شرک عظیم۰ سبحان اﷲ عمّا یصفون۰ تعالیٰ اﷲعمّا یصفون‘‘ اب