احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
قادیانی گروہ میں کئی قسم کے لوگ ہیں۔ بعض وہ لوگ تھے اور ہیں جو مرزامحمود احمد کو بدکار اور بداعتقاد مانتے تھے اور ہیں۔ صرف معاشرتی اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے جماعت میں شامل رہے۔ مثلاً بابا غلام فرید (ایم۔اے انگلش) انگریزی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا۔ ریویو آف ریلیجز کے ایڈیٹر اور انگلستان میں احمدیہ مشن کے انچارج بھی رہے ہیں۔ چوہدری عبدالرحمان (جٹ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے ہیں) محمد جی فاضل (پٹھان تھے۔ مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھے۔ عربی ڈکشنری مرتب کی تھی) چوہدری حاکم علی (چک نمبر۹ شمالی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ انہی کی بیوی نے مرزامحمود احمد کے منہ پر تھپڑ مارا تھا) مذکورہ ٹولے کا یہ کام تھا کہ عصر کی نماز کے بعد اکٹھے ہوتے اور ریلوے اسٹیشن کی طرف سیر کو نکل جاتے۔ خلیفہ کی بدکاریوں کا ذکر ہوتا۔ مرزامحمد حسین صاحب بی۔کام کہتے ہیں کہ ان اصحاب کے ساتھ وہ بھی سیر کرنے جایا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے بابا غلام فرید سے مخاطب ہوکر کہا۔ دوسروں کی لڑکیوں کا ذکر تو کرتے ہو۔ ان حالات میں تمہاری لڑکیاں کیونکر محفوظ رہ سکتی ہیں؟ ملک غلام فرید نے جواب دیا ایک تو ہم مرزامحمود احمد کی بدکاریوں سے واقف ہیں۔ انہی لوگوں کی بچیاں دام تزویر میں پھنستی ہیں جن کے والدین محمود کے متعلق اندھی عقیدت رکھتے ہیں۔ ہم بچیوں کو خود سکول چھوڑنے جاتے ہیں اور خود جاکر لاتے ہیں۔ سختی سے منع کیا ہوا ہے کہ کسی کے ساتھ کسی جگہ نہیں جانا۔ حتیٰ کہ مرزامحمود نے عورتوں میں درس قرآن جاری کیا ہوا ہے۔ وہی درس قرآن ہی عورتوں کے لئے ایک جال ہے۔ ہماری بچیاں اس درس میں بھی نہیں جاتیں۔ اس جنگل میں شیر سے بچانے کے لئے کچھ طریقے ہی ہیں وہ ہم اختیار کرتے ہیں۔ عبدالرحمان مصری اپنی اندھی عقیدت کی وجہ سے اپنی بچیوں کی عصمت کو تارتارکرابیٹھے۔ مولوی ابوالعطاء،مولوی جلال الدین شمس (شمس کا خاندان مرزامحمود احمد کی رنگین محفل کا ممبر تھا۔ خصوصاً شمس صاحب کی لڑکی جمیلہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں ایک وکیل سے بیاہی ہوئی ہے) مولوی نذیر احمد قریشی (جامعہ احمدیہ کے مدرس تھے) چوہدری ظفر اﷲ (چوہدری ظفر اﷲ خود ان کو فرانس کی نیم عریاں نائٹ کلب میں لے کر گئے تھے جس کا ذکر گزر چکا ہے) چوہدری ظفر اﷲکے بھتیجے محمد نصراﷲ اور اعجاز نصراﷲ (چوہدری اعجاز نصراﷲ کے متعلق مزید سن لیجئے چوہدری ربوہ میں شاہ ولی اﷲ کے کچے کوارٹر کے پاس رہائش پذیرتھے۔ بقول چوہدری، شاہ صاحب کی لڑکیاں رات کو سونے ہی نہیں دیتی تھیں۔ ایک جاتی ہے دوسری آجاتی ہے۔ شاہ صاحب کی بچیوں سے ہی اعجاز نصراﷲ کو خلیفہ کے کردار کا علم ہوا تھا اور اپنا وقف توڑ کر بارایٹ لاء کرنے انگلستان چلے