احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
گئے۔ مرزامحمود احمد کے تربیت یافتہ نوجوان نے انگلستان میں جاکر گل کھلائے۔ اعجاز اپنے دوستوں کو خود یہ کہتا ہے کہ عابد بٹر کی بیوی کو انگلستان کے چاروں کونے دکھائے۔ (اس وقت اس لڑکی کی عابد کے ساتھ شادی نہیں ہوئی تھی) سید صاحب ابن ڈاکٹر غلام غوث، (مرزامحمود احمد کا مستقل باڈی گارڈ)، مولوی عبدالواحد (مدرسہ احمدیہ کے مدرس) میں نے خود تقسیم ہند کے بعد مولوی سے پوچھا تھا۔ کیا آپ کو مرزامحمود احمد کی بدکاریوں کا علم تھا۔ مولوی نے مثبت میں جواب دیا۔ مرزاعبدالحق ایڈووکیٹ (جس کی بیوی سکینہ کا سکینڈل مرزامحمود احمد کے ساتھ مشہور ہے۔ مرزاعبدالحق کے سالے اسی سکینڈل کی وجہ سے جماعت سے الگ ہوگئے تھے جن کا ذکر گزر چکا ہے) شاہ ولی اﷲ کا تمام خاندان،نواب محمد علی کا تمام خاندان، مولوی نورالدین کا تمام خاندان،مرزامحمود احمد کے تمام بچے بچیاں (جن کی شہادتیں کتاب میں درج ہوچکی ہیں) حافظ مبارک احمد بھیروی (جامعہ احمدیہ کا مدرس) کلاس میں کسی لڑکے نے تفریحی طبع کے لئے سوال کیا۔ حافظ شادی کیوں نہیں کرتے۔ حافظ نے بے ساختہ کہہ دیا اگر کوئی لڑکی خلیفہ سے بچے گی تو ہم بھی شادی کر لیں گے۔ یہ بات مرزامحمود احمد کے کانوں تک پہنچی تو حافظ کو حیدرآباد دکن جانا پڑ گیا۔ تقسیم ہند کے بعد ایک دن بھی ربوہ میں نہیں ٹھہرے سیدھے اپنے آبائی شہر بھیرہ چلے گئے) بھائی محمود قادیانی (ان کا خاندان سرگودھا میں مقیم ہے) کے خاندان کی عورتیں۔ میں یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا بھائی محمود اور ان کا بیٹا مسعود، مرزامحمود احمد کی بدکاری پر یقین رکھتا تھا یانہیں۔ میرے خیال میں بدکاری کا علم تو تھا۔ لیکن یقین نہیں رکھتے تھے۔ سردار مصباح الدین کا خاندان (اس خاندان کا نوجوان ظفر اقبال جماعت سے الگ ہوچکا ہے) مبشر احمد راجیکی، مولوی غلام رسول راجیکی کے صاحبزادے تھے۔ شاعر اور فاضل آدمی تھے۔میں نے خود کئی بار مرزامحمود احمد کی بدکاری کے متعلق باتیں کرتے ہوئے سنا تھا۔ چوہدری محمد شریف باجوہ سابق واقف زندگی (چک نمبر۳۳ جنوبی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے) مولوی عبدالمالک پسر ذوالفقار علی (علی برادران محمد علی جوہر اور شوکت علی کے چھوٹے بھائی) یہ مرزامحمود احمد کی بدکاری سے متعلق فکری اور ذہنی انتشار ہے۔ قادیانیوں میں آج کل عقیدے کے متعلق بھی بڑا انتشار ہے۔ کسی صاحب علم سے پوچھیں کہ مرزاقادیانی کو کیا مانتے ہو۔ جواب دے گا ہم مجدد کی حیثیت سے بڑھ کر کچھ نہیں مانتے۔ نہ ہی مسلمانوں کو مرزاقادیانی کے انکار کی وجہ سے کافر کہتے ہیں۔ لیکن کسی ان پڑھ قسم کے قادیانی سے مرزاقادیانی کے متعلق بات کریں تو فوراً کہہ دے گا۔ ہم تو رسول کریمﷺ کے بعد نبوت جاری مانتے ہیں اور مرزاقادیانی نبی ہیں ان کا نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے