احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ہی چھپ گئی تھی۔ مرزاقادیانی کے آخری سالوں میں یہ فکری انتشار مزید بڑھ گیا تھا۔ مرزاقادیانی کی وفات کے بعد مولوی نورالدین پہلے سربراہ جماعت متفقہ طور پر منتخب ہوگئے۔ مولوی کے دور سربراہی میں ہی جماعت فکری لحاظ سے دو گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ کا قائد مرزامحمود احمد اور دوسرے گروہ کے خواجہ کمال الدین تھے۔ مرزامحمود کے رشتہ داروں (نواب محمد علی، میر محمد اسحق، میر ناصر وغیرہ) نے مولوی نورالدین پر دباؤ ڈالا کہ اپنے بعد مرزامحمود احمد کو جماعت کا سربراہ نامزد کر دیں۔ مولوی نورالدین، مرزامحمود احمد کی سیاہ کاریوں سے واقف ہوچکے تھے۔ نامزد کرنے سے انکار کر دیا تو پھر مرزامحمود احمد اور ان کے رفقاء نے جماعت کی سربراہی کے حصول کے لئے ایک تنظیم قائم کر لی۔ جس کا نام ’’انصار اﷲ‘‘ رکھا۔ ایک اخبار ’’الفضل‘‘ جاری کیا۔ چندے لینا شروع کر دئیے۔ ایک مضبوط تنظیم قائم کر لی۔ اس تنظیم میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ ان نوجوانوں کا قائد فتح محمد سیال تھا۔ میرناصر نواب نے ہندوستان کی تمام جماعتوں میں جاکر اپنے نواسے محمود کی خلافت کا پروپیگنڈا کیا۔ اس کے ساتھ مولوی نورالدین کے متعلق یہ ریمارکس بھی دئیے کہ یہ تو بھیرہ کا نائی ہے اور جماعت کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔ مرزامحمود کے سامنے اس کی علمی اور روحانی حیثیت ہی کیا ہے؟ جو لوگ مولوی نورالدین کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے وہ بددل ہوگئے۔ جب مولوی نورالدین فوت ہوا تو بقول میر محمد اسحق ’’نوردینیے‘‘ جماعت سے الگ ہوگئے۔ میں ان خاندانوں کے ناموں کا ذکر نہیں کرتا۔ اب ان کا پاکستان کی سیاست اور ملازمتوں میں ایک نام ہے۔ جماعت سے علیحدگی اس فکری انتشار کا نتیجہ تھی۔ اس کے علاوہ خلافت کا جھگڑا بھی فکری انتشار کی وجہ سے ہوا تھا۔ مولوی نورالدین کے شاگردوں (مولوی محمد علی، مولوی صدرالدین، خواجہ کمال الدین وغیرہ) نے مرزامحمود احمد کو بداعتقادی اور بدکاری کی وجہ سے سربراہ جماعت تسلیم کرنے سے انکارکر دیا۔ آخرکار ان کو قادیان سے نکلنا پڑا یا ان کو زبردستی نکال دیا۔ وہ لاہور میں آگئے۔ ان کے سامنے دو راستے تھے یا اپنے اپنے روزگار تلاش کر کے اپنی زندگی گزاریں یا جماعت بندی کریں۔ ان نوجوانوں نے دوسرا راستہ ’’جماعت بندی‘‘ کا اختیار کیا اور اپنے ہم خیال اور ’’نوردینیے‘‘ اکٹھے کئے۔ احمدیہ جماعت لاہور کی بنیاد رکھ کر کام کرنا شروع کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزامحمود احمد کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ نوجوان الگ جماعت بندی کر لیں گے۔ اگر ان کو علم ہوتا اس کے بالمقابل ایک جماعت قائم ہو جائے گی تو ان نوجوانوں کو اپنی بیعت میں نہ لیتے ہوئے بھی قادیان میں ہی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی ترجیح دیتا۔ اس طرح جماعت احمدیہ (قادیانیت) دوگروہوں قادیانی اور لاہوری میں بٹ گئی۔ یہ گروہ بندی بھی فکری انتشار کی وجہ سے ہوئی تھی۔