احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
تو کہتی جوان! ابھی آپ کی جوانی اور طاقت کو دیکھ لیتی ہوں۔ ذرا ٹھہرئیے! غرض تقریباً چار گھنٹے تک اسی وادی گناہ میں کھیلتے رہے۔ اس کے بعد آرام سے نرم وگداز بسترے پر چٹ لیٹ گئی اور آخری گناہ کی طرف بلایا۔ یہ بھی عجیب لمحات تھے۔ یونہی قبل میں عضو تناسل داخل ہوا۔ یوں درد ناک آواز نکالی جیسے ایک باکرہ پہلی رات مرد کے ساتھ مجامعت کے وقت نکالتی ہے۔ ایک خاص آواز میں کہتی۔ وہاب! مجھے مار دیا ہے۔ مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ میرے جانی مجھے چھوڑ دو۔ میں مر جاؤں گی۔ گویا ان الفاظ سے میری مردانگی کی داد دے رہی تھی۔ اپنی بیتی بیان کرنے کے بعد عجیب لہجے میں کہا: ’’یہ عجیب عورت تھی۔‘‘ عمل لواطت ۲… دوسرا واقعہ بھی سنئے۔ میں ایک دفعہ حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو کہنے لگے۔ آؤ شیزان میں آپ کو چائے پلاؤں۔ راستے میں مرزامحمود احمد کی بدکاریوں کی باتیں کرتے رہے۔ جب واپس آرہے تھے پہلے صیغہ غیب میں بیان کرنے لگے۔ ایک شخص مرزامحمود کے ساتھ عمل لواطت کررہا تھا۔ فارغ ہونے میں دیر ہوگئی تو (پھر متکلم صیغہ پر آگئے) مجھے کہا جلدی کرو میں نے دعوت پر جانا ہے۔ میں ہنس پڑا اور کہا وہ آدمی آپ ہی تھے۔ کہنے لگے ’’ہاں‘‘ میں نے پوچھا کیامرزامحمود احمد کو یہ علت تھی۔ کہنے لگے نہیں یہ پرورشن کی انتہاء ہے۔ میں نے سوال کیا۔ آپ کو کس طرح اس برائی کی طرف مائل کیا اور کب شامل ہوئے۔ کہنے لگے ایک دفعہ کشمیر میں مرزامحمود احمد کے ساتھ جانا ہوا۔ ایک چشمہ میں نہا رہے تھے۔ محمود نے غوطہ لگا کر نیچے سے میرے عضو تناسل کو پکڑ لیا۔ میں کچھ شرمندہ سا ہوگیا۔ علیحدگی میں کہنے لگے وہاب! اس کو کبھی استعمال بھی کیا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس کے بعد مجھے اس برائی کی تاریک وادی میں دھکیل دیا۔ پھر کہنے لگے جوانی ہو، پیسہ بھی ہو، ہر قسم کی سہولتیں بھی میسر ہوں۔ کسی گرفت کا بھی خوف نہ ہو تو پھر کون برائی سے بچتا ہے۔ بہرحال بدقسمتی سے ابتدائے جوانی میں عمر کا ایک حصہ گزارا ہے۔ ۳… پانچ صد عورتوں سے مجامعت کر چکا ہوں۔ ایک دفعہ حکیم صاحب کہنے لگے مرزا محمود احمد نے کہا گیارہ بارہ سال کی عمر میں اس کام میں پڑا ہوں۔ پانچ صد عورتوں سے مجامعت کر چکا ہوں۔ میرا کچھ بھی نہیںبگڑا۔ پھر کہنے لگا۔ عورت کا کیا ہے۔ خواہ کتنی ہی مضبوط اور پرشہوت ہوتو اس کے ساتھ بغیر مجامعت کئے ہاتھوں میں ہی اس کو فارغ کر سکتا ہوں۔ ۴… قادیان میں ’’قصر خلافت‘‘ کے گول کمرے سے ملحق ایک اور کمرہ ہے۔ مرزامحمود احمد