احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
پردہ دری کی۔ اپنی آپ بیتی بھی بیان کی اور دوسروں کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے چشم دید واقعات بھی بیان کئے۔ موصوف کی یہ عادت تھی کہ جو کوئی بھی احمدی دواخانہ نورالدین (جودہا مل بلڈنگ) پر آجاتا تو اب واقعات بیان کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ بغیر کسی تمہیدکے گفتگو کا آغاز کر دیتے۔ بعض اوقات سامع حیران رہ جاتا کہ حکیم صاحب کیا بیان کر رہے ہیں۔ دراصل وہ باتیں دکھی اور زخمی دل کی آہیں ہوتی تھیں۔ جو زبان پر آئے نہیں رہتی تھیں۔ وہ وہی شخص جان سکتا ہے جس کے دل میں اپنے کردہ گناہوں کی آگ جل رہی ہو۔ وہ گفتگو، اقرار جرم ہوتی تھی۔ کبھی کبھی خاکسار کو بھی حکیم صاحب کی صحبت میں جانے کا اتفاق ہوتا۔ ایک دفعہ ام طاہرصاحبہ کا ذکر چھڑ گیا تو حکیم صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ گویا پرانی یادوں میں گم ہوگئے ہیں۔کہنے لگے ام طاہر کی ’’جائے لذت‘‘ کیا تھی گویا پان کا پتا۔ پھر کلام جاری رکھا۔ ایک عورت (ام طاہر) کا ذکر اس رنگ میں کیا۔ وہ رنگ بھی رومانوی اور افسانوی تھا۔ کہنے لگے اس عورت کا کیا کہنا۔ ایک دفعہ پروگرام کے مطابق اس عورت کے ہاں میری باری تھی۔ کمرے میں داخل ہوا تو ایک عجیب فضا تھی۔ بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی۔ پلنگ پر خوبصورت نرم بسترا بچھا ہوا تھا۔ فرش پر ایک بوٹے دار قیمتی قالین تھا۔ جس پر پاؤں دھنس جاتے تھے۔ داخل ہوتے ہی ایک حسین پری میرے ساتھ لپٹ گئی اور میرے جذبہ شہوت کو تیز کرنے لگی۔ کبھی میرے ہونٹ چوستی، کبھی میری زبان منہ میں لے کر چوستی، کبھی میرے گالوں کو نرم ہاتھوں کے ساتھ تھپکتی، کبھی رخساروں پر گدگدی کرتی۔ کبھی میرے ’’آلہ حیات‘‘ کو لمس کرتی۔ آدھ گھنٹے تک اسی طرح میرے ساتھ لہو ولعب اور اٹھکیلیاں کرتی رہی۔ جب اس عورت (ام طاہر) کے جذبہ شہوت کی تپش تیز ہوئی تو اپنی قمیص اتار پھینکی۔ چند ساعت کے بعد میری قمیص بھی اتروا دی۔ اب دونوں کے جسم کے درمیان جو کپڑا حائل تھا وہ بھی دور ہوگیا۔ اوپر کا عریاں جسم ملنے سے تپش شہوت بڑھنا شروع ہوگئی۔ تھوڑا ہی وقت گزرا کہ اس عورت نے اپنی شلوار کو یوں اتار پھینکا جیسے کسی شخص نے بھاری بوجھ اٹھایا ہوا ہو۔ تھک جانے کے بعد اس بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔ اسی لمحہ میری شلوار کو بھی اتار پھینکا۔ اب پوری شہوت کے ساتھ میرے ساتھ اٹھکیلیاں کرنا شروع کر دیں۔کبھی میرا عضو تناسل بغل میں لیتی۔ کبھی ران میں لیتی۔ کبھی چند ساعات کے لئے قبل میں لیتی اور کبھی دبر میں بھی لے لیتی اور باہر نکلوادیتی۔ کبھی منہ میں ﷲے کر چوستی۔ کبھی بستر پر لیٹتی۔ مجھے اوپر لٹا لیتی اور اپنی نرم نرم رانوں میں خوب دباتی۔ کبھی میرے اوپر لیٹ جاتی اور مردانہ حرکات کر کے حظ اٹھاتی۔ دونوں ایک دوسرے کے رخسار،زبان اورہونٹ چوستے۔ کبھی میرا عضو تناسل ہاتھ میں پکڑ کر مسلتی۔ میں اپنا مردانہ مدعا اور غرض بیان کرتا