احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
وجمال کی معصومیت اور عشق ومحبت کی پاکیزہ روح قرار دیا ہے۔ عورت گل مسرت کی لطیف خوشبو، نگاہ مضطرب کی تسکین، تعلیم حیات کی ملکہ، بہارکی جان، حیات کی روح، بیتاب کی تمنا اور درد کی دوا ہوتی ہے۔‘‘ اس کے بعد شہزادہ یوسوسوف کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ: ’’مجھے اس آسمانی ہستی اور آفریشن کے تاج کے پاس لے چلو جو آفریدہ آسمان ہے۔ ہم اس تصور کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس میں ساری دنیا دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا چاہتے ہیں، جس میں ساری دنیا کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ جس کا دل بظاہر سمندر کی خاموش سطح دکھائی دیتا ہے۔ مگر باطن گہرائیوں میں طوفان کی طرح انگڑائیاں لے رہا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ محبت کی دیوی ہے۔ وہ رات کا تارہ ہے اور صبح کا ہیرا ہے۔ ہم اس کی جھولی خوشیوں سے بھر دیں گے اور ایسا نور عطاء کریں گے جس کی مثل زمین وآسمان میں نہیں ہوگی۔‘‘ راسپوٹین شراب کی مستی کے عالم میں ارینا کی تعریف کرتے کرتے یاوا گوئی پر اتر آیا۔ لیکن شہزادہ نے نہایت تحمل اور صبر سے کام لیا اور اس کا خاص آدمی زہر آلود شراب لے آیا۔ شہزادہ نے مؤدبانہ لہجے میں راسپوٹین سے کہا کہ ’’شہزادی صاحبہ خواب گاہ میں مقدس باپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ ان کے نام کا آخری جام نوش فرماکر انہیں روحانیت سے مستفید فرمائیں۔‘‘ راسپوٹین نے تمام شراب پی لی۔ لیکن حاضرین حیران تھے کہ زہر ہلاہل والی شراب پینے کے باوجود زندہ ہے۔ لہٰذا شہزادہ یوسوسوف اور ڈیوک نے راسپوٹین کے جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا گیا۔ جسم میں ابھی بھی زندگی کی رمق تھی اور اٹھا کر دریا کے کنارے لے گئے اور رسیوں سے باندھ کر دریا میں پھینک دیا۔ زارنے راسپوٹین کی لاش کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔آخر کار دو روز کی مسلسل جدوجہد کے بعد لاش تلاش کی گئی۔ لاش کا معائنہ کروایا گیا تو معلوم ہوا۔ اس کی موت ڈوبنے سے ہوئی ہے۔ ڈاکٹر حیران تھے خطرناک زہر اور گولیوں کی بوچھاڑ اور پیٹ میں خنجر گھونپنے کے باوجود کیسے زندہ رہا۔ آخر کار ۲۱؍ستمبر ۱۹۱۶ء کو راسپوٹین شاہی اعزازات کے ساتھ زار کے سکوسیلو کے باغ میں دفن کیاگیا۔ مرزامحمود احمد کو راسپوٹین سے کئی باتوں میں مشابہت حاصل ہے۔ لیکن موت میں بھی دونوں سخت جان تھے۔ مرزامحمود احمد بھی دس سال فالج کی بیماری میں مبتلا رہا۔ کھانا پینا چھوٹ چکا تھا۔ صرف نپل یا نالی کے ذریعے سیال خوراک دی جاتی تھی۔ جسم گل سڑ چکا تھا۔ بدبو تک آتی تھی۔ لیکن گھر والے حیران تھے کہ اس کی جان کہاں اٹکی ہوئی ہے۔