احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ہل یورشکیوچ (روس کی ریڈ کراس تنظیم کا سربراہ) کی معرفت ٹرین کے انچارج ڈاکٹر یزووٹ (یہ شخص بھی راسپوٹین سے سخت نفرت کرتا تھا) سے حاصل کیا۔ آخرکار اکتوبر ۱۹۱۶ء میں راسپوٹین کے قتل کے منصوبے کو آخری شکل دی گئی۔ پرنس یوسوسوف نے مونیا کی معرفت گہرے روابط قائم کر لئے۔ پرنس خانہ بدوشوں کے گیت بربط پر بہت عمدہ گاتا تھا۔ راسپوٹین خود بھی اس قسم کے گیت بہت ہی پسند کرتا تھا۔ مونیا نے پرنس سے کہا کہ راسپوٹین آپ سے گیت سننا چاہتا ہے۔ پرنس کی امیدپوری ہوئی۔مونیا پرنس کی موجودگی میں اس کی بیوی ارنیا کی خوبصورتی کا ذکر راسپوٹین سے بہت کیا کرتی تھیں۔ راسپوٹین کا شیطانی قلب ارنیا کو دیکھنے اور جنسی حظ اٹھانے کے لئے بے تاب تھا۔ آخر کار قتل کے منصوبہ کی تمام کڑیوں کو مکمل کرنے کے بعد پرنس نے ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۶ء کو راسپوٹین کو اپنے محل میں شام کو آنے کی دعوت دی۔ راسپوٹین نے رازداری قائم رکھنے کے لئے رات ساڑھے گیارہ بجے محل میں جانے کا پروگرام بنایا، وہ ارنیا کی ملاقات کی سوچوں کے سمندر میں گم تھا۔ وزیر داخلہ نے فون پر آگاہ کیا کہ کچھ لوگ اس کی جان کے درپے ہیں۔ لیکن اس جنسی عفریت نے یہ کہتے ہوئے ٹیلی فون بند کر دیا کہ: ’’مجھے مارنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ان کے ہاتھ اتنے لمبے نہیں کہ میری گردن تک پہنچ سکیں۔‘‘ رات کے ساڑھے گیارہ بجے راسپوٹین ایلچی کے ذریعہ شہزادہ فلیکس یوسوسوف کے تہہ خانہ میں پہنچ گیا۔ سیرہوکر شراب پی کر یوسوسوف کو مخاطب ہوکر کہا کہ: ’’لوگ مجھے جادوگر کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں صرف شہروں کو خاک تودوں، آبادیوں کولق دق صحرا اور بارونق ملکوں کو ہولناک قبرستان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ مگروہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں بہترین تعبیر گو اور عیسیٰ دوراں ہوں۔ پر اسرار روحانی طاقتوں اور قوتوں کا مالک ہوں۔ اﷲ نے مجھے ہدایت کاربنایا ہے اور امن ونجات کی کلید میرے ہاتھ میں دی ہے۔ دنیا وآخرت میں میرامقام بہت بلند ہے۱؎۔ میں خداکا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔‘‘ اس کے بعد عورت کی ان الفاظ میں تعریف کی۔ ’’عورت کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اور انسانی راحت کا اعلیٰ سرچشمہ ہے۔ انسان کی انسانیت اس کے طفیل ہے۔ عورت فرشتوں سے زیادہ بندگی گزار، پیکر بے مثال، نیلگوں فلک کا درخشندہ تابندہ ستارہ، ایک گوہر بے بہا جو ہر نایاب، محبت کا خزانہ، تمناؤں کی جان، آرزووں کا ایمان ہے جسے قدرت نے حسن ۱؎ مرزامحمودکا بھی دعویٰ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے مصلح موعود ہیں۔