احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ان کے سامنے ستر کھول دیا۔ ان میں سے بعض نے شرما کر منہ پھیر لیا۔ بعض مسکرانے لگیں اور چند ایک بلند آواز میں مجھے گالیاں دینے لگیں۔ ان کا شور وغل سن کر ایک راہگیر ادھر متوجہ ہوا اور میری طرف لپکا۔ میں بھاگ نکلا۔ جلد پکڑا گیا۔ گیاروسو کہتا ہے کہ میں پاگل بن گیا۔ جس پر راہگیر نے معذور سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔ وفات فادر راسپوٹین کی وفات چند حروف یا چند سطور میں بھی لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن وفات سے قبل دو مکالمے کہے تھے ان کا جاننا ’’قادیانیوں‘‘ کے لئے ضروری ہے۔ دوم راسپوٹین نے زار اور اس کی ملکہ کو مخاطب ہوکر سلطنت کے چلے جانے کی پیش گوئی کی تھی۔ جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ قادیانیوں کو بتانا مقصود ہے کہ اس قسم کے بدکار بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن پر زمانہ صداقت کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔کسی پیش گوئی کا پورا ہو جانا بدکارکی پاکیزگی کا ثبوت نہیں۔ قادیانیوں کو یہ بتانا بھی مطلوب ہے کہ اتنے بڑے بدکار کے ساتھ لوگوں اور خاص طور پر ملکہ اور بادشاہ کو کتنی عقیدت تھی۔ راسپوٹین مادام گولووینا کے گھر اپنے خلاف سازشوں کا ذکر کر کے اپنے معتقدین کو یہ بتا رہا تھا کہ یہ لوگ مجھے ختم کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ لیکن خداوند کریم اور یسوع مسیح اپنے سچے اور مخلص مقلد (راسپوٹین) کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ومصؤن رکھے گا اور متکبرانہ لہجے میں باآواز بلندکہا: ’’مجھے جس چیز کی ضرورت ہو (عورت کی) اس کے حصول کے لئے میز پر مکامار دینا ہی کافی ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ میں روسی امراء سے نپٹ سکتا ہوں۔‘‘ اس مجلس میں پرنس فیلکس، یوسوسوف، مادام گولووینا کی بیٹی مونیا بھی حاضر تھے۔ یوسوسوف راسپوٹین کی شخصیت سے متاثر نہ ہوا۔ بلکہ اس نے راسپوٹین کے متکبرانہ لہجے کو ناپسند کیا۔ پرنس کی بے اعتنائی اور بے رخی کی وجہ سے راسپوٹین بوکھلا گیا۔ پرنس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اٹھا اور کہا ’’شادی کی سالگرہ کے موقع پر ہمیں بھولئے نہ۔‘‘ پرنس نے کہا: ’’سالگرہ آپ کے بغیر تو پھیکی رہے گی۔‘‘ اپنا ہاتھ پرنس کے ہاتھ سے نکال کر مونیاکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے پے در پے بوسے لینے شروع کر دئیے۔ لیکن پرنس نے اس کی نازیبا اورناشائستہ حرکت کو بہت برا جانا اور راسپوٹین کو آخری ٹھکانے لگانے کا عزم بالجزم کر لیا۔ آخرکار اپنے منصوبہ میں اپنے دوست ڈمڑی پالووچ (زار کا محافظ) کو اعتماد میں لیا اور زہر کھلانے کا پروگرام بنایا۔ زہر ہلا