احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
بھی نظر آئے گی اور تم خود کوجنت میں محسوس کرو گی۔ یہ موٹی موٹی کتابیں جو پڑھی جاتی ہیں بے معنی ہوتی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے ذہنی خلفشار بڑھتا ہے۔ ویرا کہتی ہے کہ میری قوت مدافعت جواب دے گئی۔ میرے اعضاء مفلوج ہوگئے اور میری تمام طلب سلب ہوگئی تھی۔‘‘ راسپوٹین نے مجھے اگلے ہفتے عبادت میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ: ’’تم اتنے لوگوں سے تعلقات رکھنے کی کیوں مصیبت اٹھاتی ہو۔ صرف میری بن جاؤ۔ ان سب کو جہنم میں جانے دو۔ پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ زندگی کیا ہے۔‘‘ اس کی سخت انگلیاں میرے جسم کو ٹٹولتی رہیں۔ اس نے میرے پے در پے بوسے لئے۔ ویرا کے قول کے مطابق راسپوٹین نے اسے گود میں بٹھانے کی کوشس کی۔ مگر وہ دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔ ’’ویرا الیگزینڈر‘‘ ایک اور کمسن لڑکی کی داستان غم بیان کرتی ہے۔ (پولیس کی رپورٹوں میں بھی درج ہے) جس نے ویرا کو بتایا کہ راسپوٹین نے اسے ہفتے کی عبادت میں شریک ہونے کے لئے کہا۔ جب وہ عبادت میں شریک ہونے کے لئے اس کی خوابگاہ میں گئی تو خدا اور یسوع علیہ السلام پر پورا یقین ہونے کے باوجود میری کسی نے مدد نہ کی۔ کمرے میں اس کے اور میرے سوا کوئی نہ تھا۔ اس نے میرا بازو پکڑا اور دوسرے کمرے میں لے گیا۔ جہاں نہ صلیب تھی نہ شبیہ مسیح۔ ایک دراز ریش بزگ کی تصویر تھی۔ راسپوٹین نے مجھے تصویر کے سامنے دوزانوں ہونے کو کہا۔ ابھی میں جھکی ہوئی تھی کہ راسپوٹین نے تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اے درخوتور کے پیغمبر سائیمون۔‘‘ ہمارے گناہ پر کرم کرو اور اس کے ساتھ ہی میرے کپڑے تارتار کردئیے۔ میں بے ہوش ہوگئی اور جب ہوش آیا تو میں فرش پر برہنہ پڑی تھی اور راسپوٹین میرے سامنے مادرزاد برہنہ کھڑا تھا۔ اس نے مجھے بازوؤں میں اٹھایا تو میری چیخ نکل گئی۔ چیخ سن کر ایک عورت اندر آئی۔ اس نے مجھے نیا جوڑا پہنایا اور دوسرے کمرے میں چھوڑ آئی۔ جس میں دو کرسیاں اور بستر پڑا تھا۔ وہ عورت میرے لئے چائے اور کھانے کے لئے ٹوسٹ وغیرہ لائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک فوجی افیسر کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے سوچا کہ اسے تمام واردات بتاتے ہوئے مدد طلب کروں۔۔لیکن وہ بھی بھیڑیا نکلا۔ اس دن سے اس تہہ خانہ میں راسپوٹین کے دوستوں کی ضیافت کا سامان بنی ہوئی ہوں۔ روسو لکھتا ہے کہ اوائل شباب میں ایک دن وہ ایک کوچے سے گذر رہا تھا۔ جس میں ایک کنواں تھا۔ نوجوان لڑکیاں پانی بھرنے کنویں پر آرہی تھیں۔ میں نے ایک طرف کھڑے ہوکر