احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
اس مجلس میں کسی حسین عورت کو اپنے قریب بلاتا اس کا سر اپنی گود میں لے کر اپنی انگلیوں سے اس کے بالوں میں کنگھی کرتا۔اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومتا۔ لیکن اس کی زبان پر خدا اور عیسیٰ علیہ السلام کی باتیں ہوتیں۔ لیکن جسم کا ایک ایک انگ فعل شنیعہ میں مصروف ہوتا اور اس کی باتیں پورے انہماک سے سنتیں۔ راسپوٹین کی تمام زندگی جنسی افعال قبیحہ سے پر ہے۔ دنیا کی ہر زبان کا ادب ان افعال شنیعہ سے بھرا ہوا ہے۔ صرف دو عورتوں کے واقعات بیان کر کے اس بات کو ختم کرتاہوں۔ کیونکہ قارئین پاکستان کے جنسی عفریت مرزامحمود احمدکی زندگی کے بے راہ روی کے واقعات پڑھنے کے لئے بے تاب ہوں گے۔ ویرا الگزینڈر اشکوہ سکیا بیان کرتی ہیں کہ: ’’جب وہ راسپوٹین کی خوابگاہ میں جہاں ایک مسہری ایک سنگھار میز دو کرسیاں اور ایک چھوٹا میز جس پر رائٹنگ پیڈ اور قلم پڑے ہوئے تھے داخل ہوئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ خوابگاہ میں نہ تو شبیہ مسیح تھی اور نہ ہی صلیب بلکہ ایک دیوار پر نیم تاریکی میں رنگا رنگ ربن میں لپٹی ہوئی فریم شدہ دراز ریش شخص کی تصویر آویزاں تھی۔ خلائسٹی فرقے کے لوگ اکثر اپنے بزرگوں کی تصویر رنگارنگ ربن میں رکھتے تھے۔ لہٰذا مجھے اس دن معلوم ہوا کہ راسپوٹین بھی خلائسٹی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ راسپوٹین دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کی کنڈی لگادی۔ پھر کرسی پر بیٹھے ہوئے میری دونوں ٹانگیں اپنے گھٹنوں میں دبائیں میں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ کہنے لگا کہ: ’’کچھ کہنے آئی ہو۔‘‘ میں نے کہا کہ: ’’دنیا میں کہنے کے لئے رکھا ہی کیا ہے۔‘‘ اس نے میرے گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے کہاکہ: ’’جو کچھ میں کہتا ہوں غور سے سنو۔‘‘ کیا تمہیں وہ شعر یادہیں۔ جس میں کہاگیا ہے کہ نوجوانی ہی سے جسمانی لذت کی خواہش مجھے اذیت پہنچاتی رہی ہے اور مسیح مجھے اس کی سزا مت دے۔‘‘ میں نے چونک کر کہا کہ مجھے یاد ہے۔ اس نے میری رانوں پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوتا ہے۔ لوگ تیس سال کی عمر تک تو بخوشی گناہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد نہیں۔ اس وقت خدا سے لو لگانا چاہئے۔ پھر جب دل ودماغ مکمل طور پر خدا کی طرف لگ جائے تو اس وقت گناہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ گناہ ایک خاص قسم کا ہوگا۔ گناہ تائب ہونے سے دھل جاتا ہے اور انسان پھر ویسے کا ویسا نیک بن جاتا ہے۔ سب سے اہم چیز محبت ہے۔ مجھ سے محبت کرو۔ محبوب کی ہر بات دل میں اتر جاتی ہے۔ میں تمہیں بہت اسرار ورموز سے آشنا کر دوں گا۔ میں تمہیں گناہ کی باریکیاں بتاؤں گا۔جس سے نہ صرف سکون قلب ملے گا۔بلکہ راہ نجات