احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
روز مرہ آنے والی حسین عورتوں میں نن اکولینا، اولگاولا ڈیمیرونا (حکومت وقت کے مشیر نوخشین کی بیوی) مادام گولودوینا۔ انا میر یاوشنا، پرنسس ڈولگورو کیا، پرنسس شاخووسکیا تھیں۔ پولیس کی ایک رپورٹ میں ماسکو کی فرانسیسی نژاد اداکارہ ویرا کا بیان تحریر کیاگیا ہے۔ جس میں وہ کہتی ہے کہ: ’’جب میں راسپوٹین سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئی تو ’’اولگا‘‘ چیختی ہوئی آسمان سر پر اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی اور راسپوٹین کی کرسی کے قریب فرش پر گر پڑی وہ بدستور چلاتی رہی۔ میرے مسیح، میرے مسیح اور راسپوٹین کے جوتوں کو چاٹتی رہی۔ پھر اٹھی اور راسپوٹین کا سردونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دیوانہ دار چومنے لگی۔ ساتھ ہی وہ چلاتی جاتی تھی۔میری جان، میری روح، یہ تمہاری پیاری پیاری داڑھی، یہ خوبصورت بال، میری زندگی، میرا ایمان،میرے معبود، میرے خداوند، لیکن راسپوٹین اسے باربار جھڑکتا اور اسے کتیا، وحشی ابلیس کہتے ہوئے نفرت کا اظہار کرتا۔ پھر وہ خوابگاہ میں چلی گئی۔ اس کے پیچھے راسپوٹین بھی گیا۔ راسپوٹین کی بھاری بھرکم آواز باہر تک آرہی تھی اور پھر جب اولگا اور مونیا خوابگاہ سے واپس آئیں تو ’’اولگا‘‘ بدلی ہوئی عورت تھی اور وہ بڑے شاہانہ انداز سے ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوئی۔ مادام گولووینا (زار روس کے سابق مشیر گولوون کی بیوہ اور ملکہ کی قریبی سہیلی پروبودا کی قریبی رشتہ دار) اس کی خوبصورت بیٹی مونیا محبت میں ناکامی کے بعد اس کے ساتھ رہتی تھی۔ دونوں ماں بیٹی راسپوٹین کے حلقہ جنسی ارادت میں شامل تھیں۔ ان کے علاوہ ایک کرنل کی گلوکارہ بیوی بھی بڑی مداح تھی۔ وہ گیت گاتی تو راسپوٹین پر وجد طاری ہوجاتا اور رقص کرنا شروع کردیتا۔‘‘ شہزادہ الیکسی کی انا میر یاوشنا (شاہی محل میں آمد کے چند روز بعد ہی راسپوٹین کے جذبہ شہوت کا شکار ہوئی) پرنسس ڈولگورو کیا اور پرنسس شاخووسکیا دونوں راسپوٹین کی محبت میں گرفتار تھیں اور اپنے گھروں کو چھوڑ کر کرایہ کے مکانوں میں رہائش پذیر تھیں۔ پولیس رپورٹوں کے مطابق راسپوٹین کے خلوت کدہ کی زینت بنتیں اور جنسی اختلاط سے حظ اٹھاتی تھیں۔ راسپوٹین ’’حلقہ پاک بازاں‘‘ میں شمولیت کرنے والی عورتوں سے گناہ کی فلاسفی اس رنگ میں کرتا۔ ’’یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں خراب کر رہا ہوں۔ بلکہ میں تمہیں پاک اور مقدس کر رہا ہوں۔ ہمیں گناہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ ہمیں پچھتانے اورتائب ہونے کا موقعہ مل سکے۔ اگر خدا ہماری آزمائش کے لئے ترغیب گناہ کا کوئی ذریعہ پیداکرتا ہے تو ہمیں اس کی رضاکا احترام کرتے ہوئے خود کو رضا کارانہ طور پر گناہ کے حوالے کر دینا چاہئے۔ تاکہ ہم اس کے بعد انتہائی ندامت سے توبہ کریں۔‘‘