احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ٹیلگرام میں الیکسی کی بیماری کے لئے کچھ ہدایات بھی تھیں۔ الیکسی ٹیلگرام ملتے ہی صحت یاب ہونے لگا۔ بادشاہ کے اصرار پر راسپوٹین کو محل میں آنے جانے کی درخواست کی گئی اور وہ سینٹ پیٹر برگ میں منتقل ہوگیا۔ محل سے آخری راہبانہ سفر میں جو اپنے تجربات، مشاہدات اور کرامات قلمبند کئے تھے۔ وہ ملکہ کو دئیے۔ اب راسپوٹین ملک کی اہم شخصیت قرار دیا جانے لگا۔ اس کی اقامت گاہ پر حفاظتی پہرہ متعین کردیا گیا۔ الیکسی کو اس کے اصرار پر فوجی مشقوں کے ساتھ لے جایا گیا۔ ابھی ٹرین چلی ہی تھی الیکسی کے ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا۔ شاہی ڈاکٹر ڈریونکو نے بہت علاج کیا۔ لیکن الیکسی کے ناک کا خون نہ بند ہوا۔ الیکسی کو محل میں لایا گیا۔ راسپوٹین کو مطلع کیاگیا۔ راسپوٹین نے محل میں داخل ہوتے ہی صلیب کا نشان بناتے ہوئے شاہ سے کہا: ’’خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایک دفعہ پھر تمہارے بچے کی جان بچا لی ہے اور اسے نئی زندگی بخش دی ہے۔ آئندہ میرے مشوروں پر عمل ضروری ہوگا۔ اب شاہ اور ملکہ کی عقیدت اور محبت نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ زار روس کہا کرتا تھا کہ جب مجھے کوئی فکر دامنگیر ہوتی ہے تو فادر راسپوٹین سے چند منٹ گفتگو کرنے سے راحت محسوس کرتا ہوں۔ ملکہ اپنے ہاتھ سے کپڑے سی کر اور ان پر بیل بوٹے کاڑ دیا کرتی تھی۔‘‘ راسپوٹین کے جنسی تعلقات راسپوٹین کی روحانی مجلس۱؎ میں اکابرین (وزراء، امراء، جرنیل) کی بیگمات اور شاہی خاندان کی لڑکیاں شامل ہوتی تھیں۔ ان کو گناہ کے ارتکاب سے ہی نجات حاصل کرنے کا سبق دیا جاتا تھا۔ اس طرح فلسفہ گناہ کی وجہ سے حسین عورتوں کے ساتھ جنسی روابط بڑھنے لگے۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق جب راسپوٹین اونچے درجے کی عورتوں کے ساتھ جنسی اختلاط سے سیر ہو جاتا تو پھر نچلے طبقے کی عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار کرتا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ڈوینا راسپوٹین کے گھر کی خادمہ تھی۔ وہ سڈول جسم کی خوبصورت اور حسین دیہاتی لڑکی تھی۔ جب راسپوٹین شراب میں دھت ہوتا تو ڈوینا اس کے کپڑے تبدیل کرتی اور بستر پر لٹاتی جب راسپوٹین کوکوئی شکار نہ ملتا تو ڈوینا ہی راسپوٹین کے بستر کی زینت بنتی تھی۔ ۱؎ مرزامحمود احمد نے بھی عورتوں کے لئے درس قرآن جاری کیا اور ایک مجلس عرفان عبادت گاہ مبارک میں منعقد ہوتی تھی۔