احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ملکہ سے مخاطب ہوکر کہا: ’’میری دعاؤں کی طاقت پر یقین رکھو۔ تمہارا بیٹا بچ جائے گا۔‘‘ حکومت کی طرف سے راسپوٹین کو ’’فادر گریگوری‘‘ کا مستقل خطاب دیاگیا۔ راسپوٹین کی محل میں آمدورفت خفیہ راستہ سے شروع ہوگئی۔ لیکن الیکسی کا اتالیق موسیو جیلرڈ اور شاہ کی بیٹیوں کی انا راسپوٹین کو اس کی ناشائستہ اور اخلاق سوز حرکات کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ بیٹیوں کے کمروں میں آدھمکتا۔ جیلرڈ، انامیریا اوردیگر وزراء کی بیگمات نے شاہ اور ملکہ کو راسپوٹین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن ناکام رہے۔ ملکہ اور شاہ راسپوٹین کے خلاف عائدکردہ الزامات پر کان نہ دھرتے تھے۔ حتیٰ کہ ملکہ کی ملاقاتیں راسپوٹین کے اہل خانہ سے شروع ہوگئیں۔ ٹروشین پیوپل پارٹی جنسی آلودگی کی وجہ سے راسپوٹین کے خلاف ہوگئی۔ امراء اور وزراء کی سازشوں اور جنسی افواہوں کے پیش نظر فادر راسپوٹین نے اعلان کیا کہ ’’بدقماش اور بدکردار لوگوں نے میرے تقدس اور زہد کے دامن کو میلاکر دیا ہے۔ لہٰذا وہ اسے ایک مرتبہ پھر رہبانیت کے پاکیزہ اور صاف شفاف سمندر میں دھونے جانے لگا ہے۔‘‘ راسپوٹین نے راہبانیت اختیارکرنے سے قبل ملکہ اور شاہ کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا: ’’مجھے معلوم ہے کہ ابلیس کے گماشتے مجھے تم سے جداکرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی ایک نہ سنو۔ اگر میں تم سے جدا ہوگیا تو چھ ماہ کے اندر اندر نہ صرف تم اپنا آپ کھو بیٹھو گے۔ بلکہ تخت وتاراج بھی تم سے چھن جائے گا۔‘‘ چنانچہ فادر راسپوٹین سیلانی لباس میں مشرقی ممالک کی طرف چلاگیا۔ مختلف مقامات پر چلے کاٹے۔ مقدس مقامات کی زیارت کی۔ اسی دوران اپنے روحانی تجربات اور کرامات کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھتا رہا۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر اپنے گاؤں پر کردوسکی میں واپس آگیا۔ عبادت اور ریاضت میں مشغول ہوگیا۔ شاہی محل میں واپس اور سینٹ پیٹرز برگ میں قیام زار اپنے اہل خانہ کے ساتھ موسم خزاں میں پولینڈ کے قصبہ اسیکرنیوس میں شکار کھیل رہا تھا تو الیکسی کا پاؤں دریا کے کنارے سے پھسل گیا اور گھٹنے کا جوڑ کھل گیا۔ شاہی حکیم اور ڈاکٹر نے بہت علاج معالجہ کیا۔ لیکن تکلیف دور نہ ہوئی۔ راسپوٹین کو ٹیلگرام کے ذریعہ الیکسی کی بیماری سے مطلع کیاگیا۔ راسپوٹین نے ملکہ کو مخاطب ہوکر جواب دیا: ’’خدا نے تمہارے آنسوؤں اور دعاؤں کو بہ نظر کرم دیکھا۔ ناامید نہ ہو تمہارا بچہ زندہ رہے گا۔ ڈاکٹروں کو کہہ دو کہ الیکسی کو پریشان نہ کریں۔‘‘