احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
شاہی محل میں آمد اور بیمار شہزادے کا علاج زار روس نکولاس دوم کے ہاں چار بچیوں کے بعد شہزادہ ’’الیکسی‘‘ وارث تخت پیدا ہوا۔ یہ لڑکا پیدائشی طور پر موروثی مرض ہمیوفیلیا میں مبتلاتھا۔ اگر اس کو چوٹ لگ جاتی تو سارا جسم متورم ہو جاتا اور تکلیف سے نڈھال ہو جاتا۔ ایک دفعہ نوکر کے لڑکے سے کھیلتے ہوئے اونچی جگہ سے گرا اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ شہزادہ مارے درد چیختا اور اس کی درد بھری چیخیں سارے محل میں سنائی دیتی تھیں۔ شاہی حکیم اور ڈاکٹر نے بہت علاج کیا۔ لیکن بے سود اور درد سے آرام نہ آیا۔ جب گھرمیں کوئی مصیبت آجائے تو بڑے بڑے آدمی بھی توہم پرست ہوجاتے ہیں۔ اس وجہ سے بادشاہ اور ملکہ بچے کی بیماری کی وجہ سے توہم پرست ہوچکے تھے۔ اسٹانا اور ملٹیا دوسگی بہنیں تھیں۔ وہ ٹرورشین پیوپل پارٹی کی رکن تھیں۔ راسپوٹین بھی اس پارٹی کاممبر بن چکا تھا۔ فادر فیوفان نے راسپوٹین کا تعارف ان دو بہنوں سے اس کی کرامات اور غیبی قوت کے حوالہ سے تعارف کرایا۔ وہ اس سے بہت متأثر ہوئیں۔ دوسری ملاقات میں اسٹانا نے شہزادہ ہالیکسی کی بیماری کے متعلق بتایا تو راسپوٹین نے اسٹانا کو الیکسی کی صحت یابی کا یقین دلاتے ہوئے کہا: ’’جاؤ ملکہ کوکہہ دو کہ اب اسے رونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں آگیا ہوں۔ الیکسی بالکل تندرست ہو جائے گا۔‘‘ دوسرے دن دونوں بہنوں نے ملکہ سے ملاقات کی اور راسپوٹین کی بہت تعریف کی تو ملکہ کو راسپوٹین سے ملنے اور بادشاہ سے ملانے اور اس سے شہزادہ کاعلاج کرانے کی بہت خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ خفیہ دروازے سے راسپوٹین کو محل میں لایا گیا۔ راسپوٹین نے تمام شاہی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکہ اور بادشاہ کو اپنی بانہوں میں بھینچ لیا اور اس کو شہزادہ کے کمرہ میں لے جایا گیا۔ جب راسپوٹین شہزادہ کے کمرہ میں گیا تو شہزادہ کے سینہ پر صلیب کا نشان بنایا۔ صلیب کا نشان بنتے ہی شہزادہ نے آنکھیںکھولیں۔ راسپوٹین کی طلسمی نظر شہزادہ کے چہرہ پر جمی ہوئی تھی۔ شہزادہ کا کرب، سکون اور آرام میں بدل گیا۔ہونٹ گلابی ہوگئے اور راسپوٹین نے شہزادے سے کہا: ’’میںنے تمہارا درد بھگا دیا ہے۔ اب تمہیں کوئی چیز تکلیف نہیں پہنچائے گی اور کل تک تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ پھر ہم دونوں بڑے پیار سے کھیل کھیلیں گے۔‘‘ شہزادہ بستر مرگ سے صحت یاب ہوکر اٹھا اور فرط محبت سے راسپوٹین کے ساتھ لپٹ گیا۔ راسپوٹین مسکرایا اور کہا: ’’تمہیں آئندہ کچھ نہیں ہوگا۔ جب تک میں تمہارے ساتھ رہوں گا دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔‘‘