احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
کہانی کے مطابق وہ اپنی مداح عورتوں کے جھرمٹ میں جوہڑوں اور تلابوں میں عریاں کھڑا ہو جاتا اور عورتیں اس کے غلیظ جسم سے میل اتارتیں۔ رفتہ رفتہ راسپوٹین خلائسٹی فرقہ کا ایک اہم ترین رکن بن گیا۔ اس فرقہ کے لوگ اس کو ولی اور اس کی باتوں کو وحی قرار دینے لگے۔ پیش گوئیوں کو مبالغہ امیز صورت میں بیان کرنے لگے۔ آخر سیلانی زندگی ترک کر کے راسپوٹین اپنے گھر آگیا۔ باپ، بیوی اور بال بچوں نے بمشکل شناخت کی سورات کے وقت بیوی سے تہہ خانہ کھولنے کو کہا۔ تمام رات عریاں عبادت میں مصروف رہا۔ لیکن اپنی بیوی کی طرف رغبت نہ کی۔ گناہ کے ذریعہ نجات کا حصول مسیحی تعلیم کے خلاف تھا۔ لہٰذا پادری پیٹر اور دیگر اہل کلیسا راسپوٹین کے اس فلسفہ کی وجہ سے اس کو گمراہ اور قرین ابلیس قرار دینے لگے اور فادر پیٹر نے راسپوٹین کے افعال شنیعہ اور اس کے گمراہ کن نظریات کے تعفن کی رپورٹ گورنمنٹ کو بھیجی۔ گورنمنٹ نے پرویری ریورینڈر لارڈ شپ کی سرکردگی میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا۔ (مرزامحمود احمد کے زنا پر بھی مرزاغلام احمد قادیانی کی حیات میں ایک کمیشن تشکیل دیاگیا تھا اور شرعی ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے بری کر دیا گیا تھا) لارڈ بشپ نے مقامی لوگوں کے بیانات قلمبند کئے۔ مقامی لوگوں نے راسپوٹین کو عبادت گزار، پاک باز، متقی،خدارسیدہ اور دعاگو قرار دیا اور اس کی دعاؤں اور بددعاؤں میں جادو کا اثر ہے۔ لارڈ بشپ نے لارڈ پیٹر کی درخواست پر ایک سپاہی کے ذریعہ راسپوٹین کو کمیشن کے سامنے طلب کیا۔ جب سپاہی تہہ خانہ میں پہنچا تو اس وقت راسپوٹین عبادت میں مشغول تھا۔ سپاہی بھی راسپوٹین کے ساتھ دعاؤں میں مشغول ہوگیا اور فرط عقیدت سے راسپوٹین کے ہاتھ چومنے لگا۔ سپاہی نے کمیشن کو بتایاکہ راسپوٹین کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔ اس خدارسیدہ شخص کو کمیشن کے سامنے لانے کی جرأت نہیں رکھتا۔ لہٰذا کمیشن نے ثبوت مہیا نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا تو راسپوٹین کی جائے رہائش ایک زیارت گاہ بن گئی۔ جب راسپوٹین گھر کے تہہ خانہ میں چلہ کشی کرنے کے بعد باہر آیا تو لوگ زیارت کے لئے دیوانہ وار کھڑے تھے۔ اس وقت اس نے اپنا پہلا مذہبی خطاب کیا وہ یہ تھا۔ ’’میں تمہیں وہ مسرت بخش پیغام دینا چاہتا ہوں جو مادر وطن نے مجھے دیا ہے اور وہ ہے گناہ کے ذریعے نجات کا راستہ۔ گناہوں میں سرتایا غرق ہو جاؤ۔ تاکہ گناہ خود ہار مان جائے۔ اس کے بعد جنت تمہارے قدموں میں ہوگی۔‘‘ راسپوٹین کی ’’روحانی شہرت‘‘ ہر سو پھیل گئی۔