احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
بار روس کی سرزمین میں مختلف انسانوں کی شکل میں نمودار ہوا۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ انسان گناہوں کے ذریعہ ہی خدا کی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس فرقہ کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جو اس فرقہ کا رئیس ہوتا ہے۔ وہ خدا کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کی ذات باعث صد فخر ومباہات ہے۔ ان کے نزدیک ان کے جسم میں گناہ گناہ نہیں رہتا۔ (ربوہ کے مشہور جعل ساز صوفی غلام رسول راجیکی کا یہ عقیدہ تھا ’’الولی قدیزنی‘‘ ولی کبھی کبھار زنا کر لیا کرتا ہے) تمام بداثرات ختم ہوجاتے ہیں جو عورتیں بھی اس کے ساتھ جنسی لذت میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ خدا کی نظر میں ان عورتوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ جو اس کے قریب آنے سے انکار کرتی ہیں۔ اس فرقہ کے لوگ اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے لئے رات کو کسی خفیہ مسکن میں جمع ہوتے تمام رات رقص کرتے صبح نمودار ہوتے ہی اپنی قمیص سینوں تک اٹھالیتے اور رفتہ رفتہ لباس عریاں زیب تن کر کے رقصاں رہتے۔ روشنی گل ہو جاتی تو تمام مردوزن رشتہ کی قیود سے بے نیاز ہو کر جنسی اختلاط میں مشغول ہو جاتے۔ راسپوٹین کو اس فرقہ کی اس قسم کی رسوم نے بہت متأثر کیا اور اس کو یقین ہوگیا کہ انسان گناہ کے ارتکاب کے ذریعہ ہی حیات نو پا سکتا ہے۔ راسپوٹین کے نزدیک عیسائیت کے قدیم طریقہ عبادت اور دعائیں لا یعنی ہیں۔ صرف ’’فرقہ خلائسٹی‘‘ ہی راہ راست پر ہے۔ اس فرقہ کے بانی ’’راڈیوف‘‘ کو پیغمبر سمجھتا۔ اس پر خدا کی وحی نازل ہوتی تھی۔ راسپوٹین نے ’’درخورٹو‘‘ کی خانقاہ کے تہہ خانوں میں سالہا سال تنہائی میں گزارنے سے اپنے اندر بے انتہاء قوت ارادی پیدا کر لی تھی۔ اسی قوت ارادی نے ہی اس کو روس کی تاریخ میں یہ مقام دیا ’’درخورٹور‘‘ خانقاہ چھوڑنے سے قبل یہ فیصلہ نہ کر پایا کہ وہ اپنے بال بچوں میں چلا جائے یا راہبانہ زندگی گذارے۔ کیونکہ خلائسٹی فرقے کے لوگ ازدواجی زندگی کو لعنت سمجھتے تھے اور ہر قسم کے جنسی اختلاط کو جائز قرار دے کر انہیں روحانی شادیوں کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ راسپوٹین نے اپنی ذہنی خلش کو دور کرنے کے لئے ایک راہب ماکاری سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ راسپوٹین جنگل میں آستانہ ماکاری پر گیا۔ ماکاری نے راہبانہ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ جس پر راسپوٹین نے راہبانہ زندگی اختیار کر لی۔ راسپوٹین نے کئی سالوں تک سیلانی زندگی گزاری کشکول ہاتھ میں لے کر قریہ قریہ پھرتا رہا۔ اس کی کرامات کی دھوم مچ گئی۔ مردوں اور عورتوںکو گناہ کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کی تلقین کرتا اور کہتا ’’اپنے غرور کو گناہ سے نیست ونابود کردو اور اپنے جسم کاامتحان لو۔‘‘ اس کے وعظ سے متاثر ہوکر خوب رو۔ لڑکیاں اپنے والدین کو چھوڑ کر راسپوٹین کی مصاحب بن گئیں۔ وہ آگ کا آلاؤ جلاکر لڑکیوں کے ہمراہ رقص کرتا۔ ایک