احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
سردی کی شدت کی وجہ سے گاؤں کے لوگ شام کو کاموں سے فارغ ہوکر کسی ایک گھر میں چولہے کے گرد بیٹھ کر اپنے مسائل اور حالات کا ذکر کرتے۔ یہ لوگ گھوڑے کی چوری کو انسان کا قتل خیال کرتے تھے۔ ان دنوں کسی کا گھوڑا چوری ہوگیا۔ رات کو گاؤں کے لوگ راسپوٹین کے گھر چولہے کے گرد بیٹھے گھوڑے کے چور کو ڈھونڈنے کی باتیں کر رہے تھے۔ حاضرین مجلس میں ایک دولت مند شخص پیٹرالیگزینڈروچ بھی شامل تھا۔ لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ راسپوٹین بھی باتیں سن رہا تھا۔ دفعتہ چلّا اٹھا کہ گھوڑے کا چور پیٹرالیگزینڈروچ ہے۔ حاضرین دم بخوردہ رہ گے۔ ماں نے پیٹر سے باربار معافی مانگی۔ لیکن لوگوں نے اسی رات تاریکی میں پیٹر کو اسی گھوڑے کے ساتھ دیکھا اور خوب پیٹا۔ لوگوں نے صبح علی الاعلان راسپوٹین کی پیش گوئی کو درست قرار دیا۔ اس طرح گاؤں میں عقیدت کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ گاؤں کے ایک میلہ میں راسپوٹین کی ایک خوبصورت دوشیزہ اس ’’کو دیا فیڈرونا‘‘ سے ملاقات ہوگئی۔بڑی کوشش سے دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اس کے بطن سے دو بیٹیاں ’’میٹریونا‘‘ اور ’’ویریا‘‘ اور ایک لڑکا ’’میٹیا‘‘ پیدا ہوئے۔ لڑکے کا ذہنی توازن صحیح نہ تھا۔ راسپوٹین ویران علاقوں یا دریا کے کنارے چلا جاتا اور پراسرار قوتوں سے امداد کا طالب رہتا۔ اس کے ایک دوست پیچرکن کے بقول راسپوٹین نے اسے بتایا کہ: ’’دریائے تورا کے کنارے اس نے فضا میں ہزاروں فرشتوں اور حوروں کو نہایت سریلی میٹھی آواز میں وہی گانا گاتے ہوئے سنا جو گاؤں کی لڑکیاں مل کر گاتی ہیں۔ یہ حوریں چاند کی روپہلی چاندنی میں جھولا جھول رہی تھیں۔ وہ مستی میں سرشار اسی حالت میں جب اصطبل پہنچا تو اسے سرگوشی میں ہدایت کی گئی کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر صحراؤں اور جنگوں میں نکل جائے اور راستی کو تلاش کر لے۔‘‘ راسپوٹین نے بھی آبائی پیشہ اختیارکیا۔ بعض اوقات اس کے ساتھ مذہبی مبلغ بھی سفر کرتے وہ ان سے الٰہیات پر بحث کرتا تو وہ دم بخود رہ جاتے۔ ایک دن ایک مسافر سے مذہبی موضوع پر بحث ہوئی تو اس نے راسپوٹین کا مذہب کی طرف رجحان دیکھ کر مشورہ دیا کہ وہ ’’درخوٹور‘‘ کی درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل ہوجائے۔ چنانچہ ۳۳سال کی عمر میں اس نے درخوٹو درس گاہ میں داخلہ لے لیا۔ یہ خانقاہ سائبیریا کی خانقاہوں میں سے نمایاں ترین تھی۔ اس خانقاہ کے پیروکاروں کو خلائسٹی کہا جاتا تھا۔ اس خانقاہ میں الوہیت کے علاوہ یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو خلائسٹی فرقہ کے مخصوص ضابطوں کو اپنانے سے دنیا میں جنت پالیتا ہے۔ یہ فرقہ فری میسن کی تحریک کی طرز پر کام کرتا تھا۔ فرقہ کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کئی