تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عبدالرحمن کی مخالفت میں زیادہ کام آ ۱؎ یعنی وہ خلیفۃ المسلمین ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کے دینی و سیاسی امام ہیں۔ سکے‘ ابوالاسود کی رہائی کا حال اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو نابینا ظاہر کر کے قید سے رہائی حاصل کی تھی ابوالاسود بھی ۱۶۴ھ میں آزاد اور فرار ہو کر باغیان سرقسطہ میں جا کر شامل ہو گیا ادھر شاہ فرانس شارلیمین لاکھوں کی تعداد میں فوج فراہم کر کے کیل کانٹے سے درست ہو گیا اور اپنی اس فوج کشی کا مقصد اندلس سے مسلمانوں کا اخراج اور عیسائیوں کی حکومت کا قائم کرنا قرار دیا‘ جس سے اس کو ہر قسم کی امداد حاصل ہو سکی اور عیسائیوں میں امیر عبدالرحمن کے خلاف بڑا جوش پیدا ہو گیا‘ شارلیمین کے حملہ کرنے سے پہلے باغیان سرقسطہ نے علم بغاوت بلند کیا‘ امیر عبدالرحمن کے لیے یہ سب سے زیادہ نازک اور خطرناک موقعہ تھا کہ اس کی بربادی کے لیے دربار بغداد کا اخلاقی اثر‘ مسلمانان اندلس کی عظیم ترین سازش و بغاوت اور عیسائیوں کی عظیم الشان فوجی تیاریاں سب متحد و متفق تھیں اور عبدالرحمن اس خطرہ کی پوری پوری کیفیت سے ناواقف و بے خبر تھا‘ اس امیر عبدالرحمن نے اپنے ایک سپہ سالار ثعلبہ بن عبید کو سرقسطہ کے باغیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا‘ متعدد لڑائیاں ہونے کے بعد ثعلبہ کو سلیمان بن یقظان نے گرفتار کر لیا اور اس بات کے ثبوت میں کہ ہم کس قدر طاقتور آپ کے ہوا خواہ ہیں ثعلبہ کو شارلیمین کے پاس بھیجوا دیا‘ ثعلبہ کی گرفتاری کے بعد اس کی بقیتہ السیف فوج بھاگ کر قرطبہ میں عبدالرحمن کے پاس پہنچی اور باغیوں کی قوت و طاقت سے اس کو مطلع کیا۔ ثعلبہ کی گرفتاری کے بعد ہی شاہ فرانس جو اپنی لاتعداد فوج لیے ہوئے جبل البرتات کے اس طرف جنوبی فرانس میں پڑا ہوا تھا روانہ ہوا‘ فوج اس قدر زیادہ تھی کہ جبل البرتات کے ایک درہ میں ہو کر نہیں گذر سکتی تھی‘ لہٰذا اس کے دو حصے کیے گئے‘ اور پہاڑ کے دو مختلف راستوں سے عبور کر کے شہر سرقسطہ کی فصیل کے نیچے دونوں طرف آ کر جمع ہو گئی‘ اس عیسائی لشکر کی کثرت اور اندلس سے اسلامی اثر کے محو کر دینے کے ارداہ کی شہرت جب سرقسطہ کے مسلمانوں نے سنی‘ تو انہوں نے سلیمان بن یقظان کو ملامت کی بالخصوص حسین بن عاصی نے بھی اس انجام کو بہت ہی گراں محسوس کیا اور شہر سرقسطہ کے دروازے بند کر لیے‘ شارلیمین کو جب یہ محسوس ہوا کہ مسلمانان سرقسطہ میری امداد و اعانت میں پہلو تہی کریں گے اور امیر عبدالرحمن کے آنے پر ممکن ہے کہ اس کے ساتھ شامل ہو جائیں تو وہ سرقسطہ سے بے نیل و مرام فرانس کی جانب واپس ہوا۔ جب شارلیمین کے آنے کے وقت ایسٹریاس کی عیسائی ریاست بھی اس کی حامی و معاون بن گئی تھی اور ان پہاڑی عیسائیوں نے شارلیمین کو عیسائیوں کا نجات دہندہ سمجھ کر اس کی فوج کے گذارنے میں مدد کی تھی‘ لیکن جب وہ خوفزدہ ہو کر فرانس کی جانب واپس ہونے لگا‘ تو ان پہاڑی عیسائیوں نے اس کی فوج کے پچھلے حصے پر چھاپے مارنے شروع کیے اور شمالی میدان میں پہچنے تک اس کے کئی مشہور و معروف سپہ سالاروں اور فوج کے ایک بڑے حصے کو قتل کر دیا گویا ان پہاڑی عیسائیوں نے جو پہاڑوں کے اندر خود مختارانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنی طاقت کو دم بدم بڑھا رہے تھے شارلیمین کو اس بات کی سزا دی کہ وہ کیوں مسلمانوں سے ڈر کر واپس ہوا۔ جب شارلیمین واپس ہوا تو حسین بن عاصی نے سلیمان بن یقظان کو قتل کر کے خود