تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۱؎ اس سے مراد قرآن و حدیث یعنی دین اسلام ہے۔ باب : ۱۳مراکش و افریقہ جزیرہ نما اندلس کے جنوب میں آبنائے جبل الطارق کے اس طرف برّاعظم افریقہ کے شمال و مغرب کے گوشہ میں جو ملک واقع ہے اس کو مراکش یا مراکو یا مارٹینیا کہتے ہیں۔ اس ملک میں مراکو نام کا ایک شہر بھی آباد ہے۔ ملک مراکش کے خاص خاص صوبے سوس الادنیٰ سوس الاقصیٰ‘ رلف‘ سوطہ وغیرہ ہیں۔ مگر حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ صوبوں کی حدود اور نام بھی ہمیشہ تبدیل ہوتے رہے۔ عرب لوگ کل ملک مراکش کو مغرب الاقصیٰ کے نام سے پکارتے تھے۔ اسی طرح الجیریا کو مغرب الاوسط کہتے تھے۔ کبھی کبھی الجیریا تونس تک کے علاقوں پر بھی مراکش کے ملک کا اطلاق ہوا ہے۔ ملک عرب کی طرح ملک مراکش میں بھی بربرقوم کے قبائل الگ الگ صوبوں میں بود و باش رکھتے تھے۔ اور ان قبائل کے نام سے صوبوں کو نامزد کیا جاتا۔ اور ان کی آبادی کے اعتبار سے حدود کی تقسیم و تعین کی جاتی تھی۔ تونس و الجیریا۔ مراکش۔ تینوں ملکوں میں زیادہ تر بربرقوم آباد تھی۔ اس لئے سوائے ملک مصر کے تمام شمالی افریقہ کو ملک بربر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت اس ملک مراکش میں زناطہ مسمودہ۔ سنہاجہ۔ قطامہ۔ ہوارہ وغیرہ بربری قبائل آباد تھے۔ علاقہ بربر یعنی شمالی افریقہ میں ایرانیوں کے بعض خاندان بھی اس طرف آ کر آباد ہوئے۔ اور آتش پرستی مراکش وغیرہ میں پہنچی۔ بعض مئورخین کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم uکی اولاد یعنی بنی اسرائیل بھی اس طرف آ کر آباد ہوئے۔ کم از کم یہودی مذہب کا تو اس طرف ایک زمانے میں ضرور دور دورہ رہا۔ رومیوں اور یونانیوں کی حکومت بھی ان علاقوں میں قائم ہوئی۔ قرطاجنہ کی مشہور قوم اسی علاقہ بربر یا تونس یا افریقہ کی رہنے والی تھی۔ جس کو اہل قینشیا یعنی کنعانیوں کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔ آخر میں گاتھ قوم مراکش میں چیرہ دستی دکھا چکی تھی۔ مشرقی روم یعنی قسطنطنیہ کی حکومت اس زمانہ تک اس علاقے میں موجود تھی۔ جب تک کہ مسلمانوں نے اس ملک کو فتح کیا ہے بہرحال قوم بربر مراکش اور اس کے متصلہ مشرقی علاقوں میں آباد اور سینکڑوں قبائل میں منقسم تھی۔ اس قوم کو عربوں‘ شامیوں‘ مصریوں‘ یونانیوں‘ ایرانیوں‘ رومیوں وغیرہ کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے ملک اور آب و