تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گیا۔ امیر عبدالرحمن دو مہینے تک قلعہ قرمونہ میں محصور رہا۔ سامان رسد کے ختم ہو جانے سے لوگ بھوک کے مارے مرنے لگے اور کشودکار کی کوئی صورت باقی نہ رہی‘ اس حالت یاس و ناامیدی میں امیر عبدالرحمن نے اپنے ہمراہیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم لوگ بجائے اس کے کہ بھوک کی شدت سے مریں یا زندہ دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوں‘ لڑ کر مر جائیں اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیں‘ چنانچہ اسی وقت ایک بڑا الائو آگ کا روشن کر کے سات سو آدمیوں نے اپنی تلواروں کے میان اس میں ڈال کر جلا دئیے جو اس بات کی علامت تھی کہ دشمن سے لڑتے لڑتے مر جائیں گے یا فتح حاصل کریں گے اس کے بعد قلعہ کا دروازہ کھول کر یکایک دشمن پر جا پڑے‘ محاصر فوج دو مہینے سے قلعہ کو گھیرے ہوئے پڑی تھی اس کو یہ معلوم تھا کہ محصورین کی تعداد بہت قلیل ہے اس لیے وہ غافل اور بے فکر تھی‘ یکایک ان سات سو بھوکے شیروں نے نکل کر اس طرح قتل کا بازار گرم کیا کہ محاصر دشمن اپنی سات ہزار لاشیں قلعہ کے سامنے چھوڑ کر میدان خالی کر گئے‘ اور ذراسی دیر میں ملک اندلس کی سلطنت جو امیر عبدالرحمن کے قبضے سے نکل چکی تھی پھر اس کے قبضے میں آ گئی۔ عجیب قسم کی دل لگی اس موقعہ پر امیر عبدالرحمن نے منصور عباسی کے ساتھ عجیب قسم کی دل لگی کی یعنی علاء بن مغیث اور لشکر عباسی کے تمام بڑے بڑے سرداروں کے سر کاٹ کر ہر ایک کے کان میں سوراخ کر کے ایک پرچہ باندھ دیا جس میں اس سردار کا نام مع عہدہ درج تھا‘ پھر ان سرداروں کو کئی صندوقوں میں بڑی احتیاط کے ساتھ بند کرا کر حاجیوں کے قافلے کے ساتھ روانہ کر دیا‘ اس طرح یہ صندوق مکہ معظمہ پہنچے اور وہاں سے ایک حجازی نے ان کو خلیفہ منصور کی خدمت میں پیش کر دیا‘ خلیفہ منصور نے جب ان صندوقوں کو کھولا تو جس صندوق میں علاء بن مغیث کا سر تھا اسی میں وہ خط بھی تھا جو منصور نے علاء بن مغیث کے نام اندلس پر حملہ کرنے کے لیے لکھا تھا ساتھ ہی اس سیاہ علم کے پرزے اور دھجیاں بھی تھیں جو منصور نے ابن مغیث کے پاس بھیجا تھا منصور نے ان سروں کو دیکھا اور صرف یہ کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے اور عبدالرحمن کے درمیان سمندر حائل ہے‘ پھر ایک روز کہا کہ مجھ کو عبدالرحمن کی جرأت‘ دانائی اور حسن تدبیر پر حیرت ہے کہ اس نے کس بے سر و سامانی کے عالم میں اتنے دور دراز اور دشوار گذار ملک میں جا کر اپنی حکومت و سلطنت قائم کر لی‘ جنگ قرمونہ ۱۴۶ھ کے آخری حصہ میں ہوئی۔ باغیوں کا استیصال فتح قرمونہ کے بعد امیر عبدالرحمن نے اپنے خادم بدر اور تمام بن علقمہ کو فوج دے کر طیطلہ کی جانب روانہ کیا‘ ایک سخت اور خوں ریز جنگ کے بعد بدر اور تمام کو باغیان طیطلہ پر فتح مبین حاصل ہوئی‘ ہشام بن عبدربہ فہری‘ حیٰوۃ بن ولید یحصبی‘ عثمان بن حمزہ بن عبیداللہ بن عمر بن خطاب وغیرہ باغیوں کے بڑے بڑے سردار گرفتار ہوئے‘ ان سرداروں کو لے کر جب بدر اور تمام قرطبہ کے قریب پہنچے تو شہر سے باہر ہی ان باغی سرداروں کو سروریش مونڈ کر۱؎ اور ذلت کے ساتھ گدہوں پر سوار کرا کر شہر کے اندر لے گئے‘ جہاں امیر عبدالرحمن کے حکم سے ان کو قتل کر دیا گیا۔ علاء بن مغیث کے ساتھ بہت سے یمنی قبائل شامل ہو گئے تھے اور ان میں سے اکثر