تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہیں۔ اور میرے زیر فرمان اس قدر جنگ جو قبائل ہیں۔ کہ اب مجھ کو دوسرے ملکوں کے فتح کرنے کی آرزو اور تمنا نہیں ہے۔ اسی طرح تم بھی بہت سے ملکوں پر قابض و متصرف اور بہت بڑے بادشاہ ہو۔ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم تم دونوں آپس میں محبت و دوستی کا عہد کریں تاکہ ہر ایک دوسرے کی طرف سے مطمئن رہیں اور صلاح و فلاح خلائق میں اطمینان کے ساتھ مصروف ہو جائیں۔ اس خط میں چنگیز خان نے یہ بھی لکھا تھا کہ میں تم کو اپنے بیٹے کی طرح عزیز سمجھوں گا۔ اس ۱؎ اس واقعہ کی سند پتہ نہیں کیسی ہے؟ البتہ ایسے بہت سے واقعات تصوف کی دنیا میں ملتے ہیں جو صریحاً جھوٹے ہوتے ہیں اور مبالغہ آمیزی سے بھرپور۔ سیاق کلام میں ’’لوگوں کا خیال ہے کہ …‘‘ بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ بھی من گھڑت ہے۔ مؤلف نے بھی بلا تحقیق درج کر دیا ہے۔ خط کو پڑھ کر محمد خوارزم شاہ نے بظاہر چنگیز خان کے سفیروں کی خاطر مدارات کی اور دوستی کا عہدنامہ لکھ دیا۔ مگر خط کے اس آخری لفظ یعنی بیٹے والے فقرے کو اس نے ناپسند کیا۔ اور اپنی تحقیر سمجھا۔ عہدنامہ میں طرفین نے تجارت کی آزادی کو تسلیم کیا اور تاجر ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے لگے۔ چنگیز خان اگرچہ کافر تھا۔ مگر ہم کو اس کی اس دانائی کی داد دینی چاہیے کہ اس نے ایک زبردست بادشاہ کے خطرے سے محفوظ رہنے کے لئے آشتی میں ابتدا کی۔ یہ بات بھی اس کی دانائی کی دلیل ہے کہ عہدنامہ صلح میں اسی کی خواہش سے تاجروں کے آنے جانے کی آزادی کا ذکر کیا گیا۔ بظاہر اس وقت تک چنگیز خان کا کوئی ارادہ ممالک اسلامیہ پر تاخت و تاراج کا نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اس صلح نامہ کے بعد خلیفہ ناصرلدین اللہ عباسی کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک شخص کا سر منڈوا کر اس پر ایک خطبہ چنگیز خان کے نام نقش کیا۔ یعنی جلد میں نوک نشتر سے گود کر سرمہ بھر دیا گیا تھا۔ اس عجیب و غریب خط میں لکھا تھا کہ تم سلطان محمد خوارزم شاہ حملہ کرو۔ اور ہم کو اپنا ہمدرد تصور کرو۔ اس طرح منڈے ہوئے سر پر جب خط لکھا گیا۔ تو چند روزہ انتظار کے بعد بال سر پر جم آئے۔ اور اس شخص کو چنگیز خان کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ جب وہ شخص چنگیز خان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ میں خلیفہ کا ایلچی ہوں اور خلیفہ کا پیغام میرے سر پر منقوش ہے میرے سر کے بال منڈوا دو اور خلیفہ کا پیغام پڑھ لو۔ چنانچہ اس کا سر منڈوا کر چنگیز خان نے خلیفہ کا پیغام پڑھا اور ایلچی سے معذرت کی کہ میں صلح کر چکا ہوں۔ اس لیے اپنے عہد کے خلاف چڑھائی اور لڑائی خوارزم شاہ سے نہیں کر سکتا۔ چنانچہ خلیفہ‘ ایلچی سرمنڈوا کر نام واپس چلا آیا اور چنگیز خان نے خوارم شاہ کے نام دوستی و محبت کو اور زیادہ پائیدار بنانے کے لیے ایک خط لکھا۔ جس میں خوب اظہار محبت کیا گیا۔ بات یہ تھی کہ خوارزم شاہ قریب تھا۔ اور اس کے ملک کی حدود ملی ہوئی تھیں۔ اس لیے چنگیز خان خوارزم شاہ سے بہت خائف اور ترساں تھا۔ چنگیز خان اس بات کو بھی جانتا تھا۔ کہ خلیفہ بغداد خوارزم شاہ سے بھی زیادہ عظمت و طاقت رکھتا ہے۔ لیکن خلیفہ بغداد کا اس کو کوئی خوف نہ تھا۔ کیونکہ بہت سے ملک درمیان میں حائل تھے۔ خوارزم شاہ کی غلطی اب خوارزم شاہ کی بد نصیبی دیکھئے۔ چنگیز خان نے اپنا ایک خط ایلچی کو دیا۔ اور اس ایلچی کو ان ساڑھے چار سو مسلمان سودا گروں کے قافلہ کے ساتھ کر دیا۔ جو مغولستان میں بغرض تجارت آئے ہوئے تھے۔ اور اب واپس جا رہے تھے۔ سوداگروں کے اس تمام