تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عیسائیوں کو فرار ہونا پڑا‘ شہر ناربون میں پہنچ کر امیر عبدالرحمن غافقی نے اپنی حالت کو درست کیا اور اس صوبہ سے خراج اور مال غنیمت لے کر جبل البرتات کے ان کو ہی قبائل کی سرکوبی کی‘ جو امیر سمح کے شہید ہونے اور طولوز سے مسلمانوں کے واپس ہونے کی خبر سن کر بغاوت و شرارت پر آمادہ ہو گئے تھے‘ ان کو ہی قبائل کو درست کر کے امیر عبدالرحمن اندلس میں واپس آئے۔ جس وقت امیر سمح ملک فرانس پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے تو اپنی جگہ عنبسہ بن سحیم کلبی کو اندلس کا حاکم مقرر کر گئے تھے‘ عنبسہ نے یہ سن کر کہ عبدالرحمن غافقی کو ہی قبائل سے جنگ کرنی پڑی ہے فوراً اندلس سے کمک روانہ کی‘ مگر اس کمک کے پہنچنے سے پہلے ہی عبدالرحمن فارغ ہو چکے تھے‘ اندلس میں واپس کر آکر فوجی انتخاب کے موافق عبدالرحمن غافقی ہی کو امیر اندلس تسلیم کیا گیا۔ عبدالرحمن کی معزولی مگر چند ہی روز کے بعد بشر بن حنظلہ بن صفوان کلبی حاکم افریقہ نے عبدالرحمن غافقی کی یہ شکایت سن کر کہ انہوں نے فوجیوں کے اقتدار و اختیار کو بڑھا دیا ہے‘ عبدالرحمن کو معزول کر کے عنبسہ بن سحیم کلبی کو امیر اندلس بنایا‘ عنبسہ بن سحیم کی امارت کو عبدالرحمن نے بخوشی تسلیم کر کے بیعت کی اور امیر عنبسہ نے عبدالرحمن کو مشرقی اندلس کا عامل بنایا جہاں وہ پہلے بھی عامل تھا۔ عنبسہ بن سحیم کلبی عنبسہ نے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی نہایت قابلیت کے ساتھ ملک کا انتظام کیا اور رعایا کو انواع و اقسام کے فائدے پہنچائے‘ امیر عنبسہ کے ابتدائی عہد حکومت میں بلائی نامی ایک عیسائی نے جس کو انگریزی میں پلیو کہتے ہیں ایک پہاڑی علاقہ میں بغاوت کی اور بہت سے عیسائیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا‘ یہ سن کر اسلامی لشکر نے اس طرف توجہ کی اور تمام عیسائیوں کو قتل و گرفتار کر کے اس فتنے کو فرو کر دیا‘ پلیو فرار ہو کر تیس آدمیوں کے ساتھ پہاڑوں میں جا چھپا‘ مسلمانوں نے ان تیس آدمیوں کی قلیل جماعت کو بے حقیقت سمجھ کر کوئی التفات نہ کیا‘ اگر مسلمان چاہتے تو ان کا تعاقب کر کے جہاں کہیں بھی وہ جاتے گرفتار کر کے قتل کر دیتے‘ مگر انہوں نے ان کے استیصال کو مطلق ضروری نہ سمجھا‘ یہ تیس آدمی لوٹ مار پر آمادہ رہ کر پہاڑوں میں سکونت رکھتے اور ڈاکہ زنی سے بعض مواضعات کو نقصان پہنچاتے‘ مسلمانوں نے چونکہ ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور نہ کبھی کوئی دستہ فوج ان کے استیصال پر مامور ہوا‘ اس لیے یہ آئندہ زمانے میں اپنے اس جتھے کو مضبوط کرتے گئے اور عیسائی آ آ کر ان میں شریک ہوتے گئے اس طرح اندلس میں ایک عیسائی ریاست کی بنیاد قائم ہوئی جس کا ذکر آگے ان شاء اللہ آئے گا۔ جنوبی فرانس کی فتح امیر عنبسہ نے ملک کے انتظام سے فارغ ہو کر ملک فرانس پر چڑھائی کی‘ علاقۂ ناربون مسلمانوں کے قبضہ میں موجود تھا اس لیے جبل البرتات سے گزرنے میں کوئی وقت پیش نہ آئی‘ امیر عنبسہ نے تمام جنوبی فرانس کو فتح کر لیا اور فرانس کے وسط میں پہنچ کر مشرق و مغرب کی جانب فوجیں پھیلا دیں اس وقت مال غنیمت کی کثرت سے مسلمان بہت بوجھل ہو گئے تھے‘ فرانسیسیوں نے اپنی تمام فوجوں کو فراہم کر کے اپنے نصف سے زیادہ ملک کی پامالی کا تماشا دیکھا‘ آخر ایک مناسب اور موزوں وقت و مقام