تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
طاہر کے بیٹوں کو بحرین کی حکومت عطا کر دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوطاہر کے بیٹوں نے آ کر احساء کو تاخت و تاراج کر ڈالا۔ یہ حال دیکھ کر بغداد کے خلیفہ طائع عباسی نے ابو طاہر کے بیٹوں کو خط لکھا کہ تم آپس میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو اور ہمارے احکام کی تعمیل کرو۔ اور اس بغاوت سے باز رہو۔ مگر اس کا کوئی اثر ان پر نہ ہوا آخر اعظم نے احساء کی طرف واپس آ کر سب کو درست کیا۔ اور خلیفہ طائع عباسی کے فرستادوں نے آ کر ان میں مصالحت کرا دی۔ ۳۶۳ھ میں معز عبیدی کی فوجوں نے تمام ملک شام پر قبضہ کر لیا۔ اعظم قرمطی فوجیں مرتب کر کے ملک شام کی طرف آیا۔ تمام ملک شام سے عبیدی فوجوں کو شکست دے دے کر بھگا دیا۔ اور مصر پر حملہ آور ہو کر بلبیس تک پہنچ گیا۔ معز عبیدی نے اعظم قرمطی کی فوج کے ایک بڑے حصے اور بعض عرب سرداروں کو لالچ دے کر اپنی طرف مائل کر لیا۔ اس لیے حسن اعظم کو شکست ہوئی۔ اور وہ احساء کی طرف واپس چلا آیا۔ اور شام پر عرب سرداروں کا قبصہ ہو گیا۔ دمشق پر بعض ترکی سردار قبضہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ معز عبیدی ۳۶۵ھ میں خود دمشق کی طرف روانہ ہوا۔ اتفاقاً راستے ہی میں فوت ہو گیا۔ اعظم قرمطی نے ۳۶۶ھ میں حملہ کر کے ملک شام کو پھر فتح کر لیا۔ اس حملہ میں افتگین نامی ترکی سردار اس کے ساتھ تھا۔ آخر عزیز عبیدی سے حدود مصر میں معرکہ آرائی کی نوبت آئی جیسا کہ اوپر عزیز عبیدی کے حالات میں بیان ہو چکا ہے۔ افتگین تو گرفتار ہو گیا اور اعظم اپنے دارالسلطنت احساء کی جانب چلا آیا چونکہ اعظم نے خلافت عباسیہ کی اطاعت قبول کر لی تھی اور اس کو عبیدیین سے سخت نفرت تھی اس لیے قرامطہ اس سے کبیدہ خاطر اور افسردہ دل رہتے تھے۔ ادھر عبیدیوں کی طرف سے قرامطہ کے عام لوگوں میں غیر محسوس طور پر اعظم کے خلاف تبلیغی سلسلہ جاری تھا لہٰذا قرامطہ نے اعطم کے خلاف ایک بغاوت برپا کر دی۔ یہ بغاوت اس لیے زیادہ کامیاب ہو سکی کہ اعظم اپنے دارلسلطنت سے دور ملک شام میں زیادہ مصروف رہا۔ اگر وہ دارالسلطنت کو نہ چھوڑتا تو کوئی بغاوت اس کے خلاف کامیاب نہ ہو سکتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب اعظم شام کی طرف سے واپس احساء میں آیا تو تمام اہل شہر کو اپنا مخالف و سرکش پایا۔ اس کی رکابی فوج بھی باغیوں میں شامل ہو گئی۔ انہوں نے اعظم کو گرفتار کر کے ابوسعید جنابی کے تمام خاندان کو حکومت و سلطنت سے محروم کر کے اپنے گروہ میں سے جعفر و اسحٰق دو شخصوں کو مشترکہ طور پر تخت حکومت پر بٹھا دیا اور اعظم اور اس کی اولاد اور رشتہ داروں کو جزیرہ ادال میں جلا وطن کر دیا۔ اس جزیرہ میں ابوطاہر کی اولاد پہلے سے بحالت جلا وطنی موجود تھی۔ اور ان کی تعداد زیادہ تھی۔ انہوں نے ان نئے جلا وطنوں کو جزیرہ میں قدم رکھتے ہی حملہ کر کے قتل کر ڈالا۔ جعفر و اسحاق جعفر و اسحاق مل کر قرامطہ پر حکومت کرنے لگے۔ اور انہوں نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی خلافت عباسیہ کی اطاعت سے منحرف ہو کر عبیدیین کی خلافت کو تسلیم کیا۔ اور عبیدی بادشاہ کا خطبہ اپنے مقبوضہ ممالک میں جاری کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کوفہ پر حملہ کیا۔ اور قابض ہو گئے۔ صمصام الدولہ بن بویہ نے ایک فوج قرامطہ کی سرکوبی کے لیے کوفہ کی جانب روانہ کی۔ قرامطہ نے اس فوج کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اور قادسیہ تک اس کا تعاقب کیا۔ اس کے بعد جعفر و اسحٰق کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوئی۔ اور ہر ایک اس کوشش میں مصروف ہوا کہ اپنے حریف کو مٹا کر تنہا بادشاہت