تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بمقدار کثیر غلہ کا مطالبہ کیا۔ عاضد عبیدی بادشاہ مصر کو یہ رنگ دیکھ کر بہت فکر ہوئی۔ عاضد کی سلطان نورالدین زنگی سے امداد طلبی اس نے ایک قاصد سلطان نورالدین محمود علیہ الرحمہ کے پاس بھیجا۔ اور درخواست کی کہ عیسائیوں کو جو مصر پر مستولی ہو گئے ہیں۔ خارج کرنے میں مدد کیجیے۔ اور بلا توقف فوجیں بھیجئے۔ شاور کو جب یہ حال معلوم ہوا کہ عاضد نے سلطان نورالدین سے امداد طلب کی ہے تو اس نے عاضد کو سمجھانے اور اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ ترکوں کے مقابلے میں عیسائیوں کا باج گذار بن جانا اچھا ہے۔ مگر عاضد نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ سلطان نورالدین محمود نے اپنے سپہ سالار شیرکوہ کو تیاری کا حکم دیا۔ اور اس کے ساتھ اس کے بھتیجے صلاح الدین اور دوسرے سرداروں کو بھی روانہ کیا۔ چنانچہ اسدالدین شیر کوہ مع لشکرو سرداران فوج مصر کی جانب روانہ ہوا۔ ماہ جمادی الاول ۵۶۴ھ میں قاہرہ کے قریب پہنچا۔ عیسائی لشکر یہ سنتے ہی قاہرہ سے فرار ہوا۔ شیرہ کوہ نے عیسائی لشکر گاہ کو لوٹا۔ اور بادشاہ عاضد کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عاضد نے شیر کوہ کو خلعت عطا کیا اور بڑی عزت کے ساتھ پیش آیا۔ شیر کوہ اور اس کے لشکر کو مہمان رکھا۔ اور ایک روز موقعہ پا کر شیرکوہ سے کہا کہ شاور چونکہ عیسائیوں کا خیر خواہ اور ہمارا دشمن ہے اس کو قتل کر دو۔ چنانچہ شیرکوہ نے اپنے سرداروں کو شاور کے قتل کر دینے کا حکم دیا۔ اور شاور کا سر اتار کر عاضد کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ عاضد نے شیر کوہ کو وزارت کا عہدہ دے کر ’’امیرالجیوش‘‘ اور ’’منصور‘‘ کا خطاب دیا شیرکوہ کا تعلق سلطان نورالدین محمود سے بھی بدستور باقی تھا۔ اور وہ سلطان نورالدین محمود کی اجازت ہی سے مصر میں بطور وزیراعظم کام کرتا تھا۔ چند ہی مہینے کے بعد ۵۶۵ھ میں شیر کوہ کا انتقال ہو گیا۔ صلاح الدین ایوبی بحیثیت وزیراعظم مصر عاضد نے اس کے بھتیجے صلاح الدین کو عہدئہ وزارت عطا کیا۔ صلاح الدین نے بھی اپنی وفاداری اور تعلقات کو سلطان نورالدین محمود سے برابر قائم رکھا۔ شیرکوہ کی وزارت سے عاضد بہت خوش تھا۔ اور تمام سیاہ و سفید کا اختیار اس کو دے دیا تھا۔ اسی طرح صلاح الدین کو بھی کلی طور پر اختیارات حکمرانی حاصل تھے۔ شیرکوہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعیa سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ صلاح الدین ایوب نے شیعہ قاضیوں کو موقوف کر کے شافعی قضاۃ مامور کئے۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۵۶۴ھ میں جب شیرکوہ نے عیسائی فوجوں کو مصر سے نکال کر خود بطور وزیراعظم مصر کا انتظام شروع کیا تو عیسائیوں کو وہ خراج ملنا بھی موقوف ہو گیا۔ جو وہ مصر سے حاصل کرنے لگے تھے۔ نیز عیسائیوں کو یہ فکر پیدا ہوئی کہ دمشق و قاہرہ کی اسلامی حکومتوں میں جب اتحاد قائم ہو گیا ہے تو اب بیت المقدس پر قبضہ قائم رکھنا دشوار ہے۔ لٰہذا انہوں نے صقلیہ اور اندلس کے پادریوں کو پیغام بھیجا کہ بیت المقدس کے بچانے اور عیسائی حکومت کے یہاں قائم رکھنے کے لئے امداد کی سخت ضرورت ہے۔ چنانچہ ان ملکوں میں پادریوں نے جہاد کے وعظ کہنے شروع کئے۔ اور اندلس وغیرہ سے عیسائی فوجیں روانہ ہو کر ساحل شام پر آ آ کر اترنا شروع ہوئیں۔ عیسائیوں نے یورپ سے ہر قسم کی امداد پا کر اور خوب طاقتور ہو کر ۵۶۵ھ میں دمیاط کا محاصرہ کر لیا۔ دمیاط کے عامل شمس الخواص منکور نامی نے صلاح الدین ایوب کو مطلع کیا۔ ادھر مصر