تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ایک جھوٹی کہانی اور اس پر تنقید چنانچہ انہوں نے ایک جھوٹی کہانی تصنیف کر کے اس کو خوب فروغ دیا ہے اور کہانی یہ ہے کہ طارق جب طیطلہ سے شمال کی جانب روانہ ہوا ہے تو اس کو طیطلہ کے مفرورین کی ایک جماعت ملی جن کے پاس سیدنا سلیمان uکی ایک میز یا چوکی تھی‘ وہ زر و جواہر سے مرصع اور کروڑوں روپیہ کی قیمتی تھی‘ طارق نے اس کو چھین لیا‘ جب موسیٰ اندلس پہنچا تو موسیٰ نے طارق سے اس چوکی کو طلب کیا‘ طارق نے اس چوکی کا ایک پایہ اکھیڑ کر چھپا لیا اور تین ٹانگ کی چوکی موسیٰ کی خدمت میں پیش کر کے کہا کہ یہ اسی حالت میں ملی تھی‘ موسیٰ نے چوتھا پایہ سونے کا بنوا کر نصب کرا لیا‘ مگر وہ ویسا نہ بن سکا جیسے باقی تین پائے تھے جب موسیٰ نے خلیفہ ولید یا سلیمان کی خدمت میں اس چوکی کو پیش کیا تو عرض کیا کہ یہ چوکی میں نے مال غنیمت میں حاصل کی تھی‘ خلیفہ نے اس کے ایک پائے کو ناقص دیکھ کر پوچھا کہ یہ پایہ باقی پایوں کی مانند نہیں ہے‘ موسیٰ نے عرض کیا کہ یہ مجھ کو عیسائیوں سے اسی حالت میں ملی تھی‘ طارق بھی اس وقت موجود تھا اس نے فوراً اپنی بغل میں سے وہ چوتھا پایہ نکال کر خلیفہ کے سامنے پیش کر دیا کہ چوتھا پایہ یہ موجود ہے۔ خلیفہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر نے طارق کی کارگزاری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے تو وہ سخت برہم ہوا اور اس نے موسیٰ کو قید بھی کیا اور جرمانہ بھی اتنا سخت کیا جو موسیٰ سے ادا نہیں ہو سکتا تھا‘ اسی قسم کی اور بھی بہت سی کہانیاں عیسائی مورخوں نے تراشی ہیں‘ افسوس ہوتا ہے کہ ان مورخین نے جو ہمارے زمانہ میں اندلس کی تاریخیں لکھنے کی طرف متوجہ ہوئے‘ ایسی لغو اور بے ہودہ کہانیوں کی لغویت کا پردہ فاش نہیں کیا‘ طارق کا اپنے افسر اور آقا سے اس طرح چالاکی اور دھوکہ بازی کے ساتھ پیش آنا اور برسوں پہلے سے موسیٰ کو زک دینے کے لئے یہ منصوبہ گانٹھنا کسی طرح سمجھ نہیں آ سکتا‘ پھر تعجب یہ ہے کہ موسیٰ کو چوکی یا میز کا چوتھا پایہ بنوانا پڑا اور موسیٰ سے کسی ایک شخص نے بھی یہ نہ کہا کہ یہ میز جب ہم نے عیسائی مفرورین سے چھینی ہے تو اس کے چاروں پائے سالم تھے آپ اس چوتھے پائے کو تلاش کریں‘ مگر یہ طارق کی ایسی سازش تھی کہ ہزارہا آدمی اس سے واقف تھے اور موسیٰ تین سال تک بے خبر رہ کر یہی سمجھتا رہا کہ چوکی اسی حالت میں عیسائیوں سے چھینی گئی تھی‘ موسیٰ جیسا اولوالعزم شخص جو تمام یورپ کو فتح کرتا ہوا قسطنطنیہ پہنچنے کا عزم رکھتا تھا تعجب ہے کہ ایسی دنائت اور پست ہمتی پر کیسے آمادہ ہو سکتا تھا کہ دوسرے کی کارگزاری کو دربار خلافت میں جھوٹ بول کر اپنی طرف منسوب کرے‘ پھر لطف یہ کہ عیسائی مفرورین سے اس چوکی یا میز کا چھین لینا کوئی بہادری کی بات نہ تھی‘ خواہ کوئی شخص اس میز کو حاصل کرتا وہ بہرحال خلیفہ کی خدمت میں پیش ہونی چایئے تھی‘ پھر خلیفۂ دمشق کے دربار میں طارق کا اس طرح حاضر ہونا کہ اس کی بغل میں میز کا پایہ دبا ہوا ہے اور بھی حیرت انگیز ہے‘ طارق و موسیٰ کی ان مضحکہ خیز حرکات پر خلیفہ سلیمان کا اس قسم کی سزائیں تجویز کرنا بھی کسی طرح سمجھ میں نہیں آتا۔ اندلس اور ممالک مغربیہ کی تاریخ لکھنے والوں میں ہم کو سب سے زیادہ اعتماد ابن خلدون پر کرنا چاہیئے‘ مگر وہ اس کہانی کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے‘ ابن خلدون کا بیان ہے کہ جب موسیٰ بن نصیر خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی خدمت میں حاضر ہوا تو خلیفہ نے موسیٰ کے اس ارادے پر اظہار ناراضی کیا کہ وہ یورپ کے ملکوں کو فتح کرتا ہوا