تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ناخوش تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمد مخلوع کے بھائی نصر بن محمد کو بغاوت پر آمادہ کیا۔ اور اول وزیر السلطنت کے مکان کو لوٹ کر قصر شاہی پر دھاوا کر دیا۔ محمد مخلوع کو گرفتار و معزول کر کے نصربن محمد کو تخت سلطنت پر بٹھایا۔ سلطان نصر بن محمد سلطان نصر بن محمد فقیہ نے تخت نشین ہو کر ابو الحاج مقتول مذکور کے بیٹے نصر کو اپنا وزیر بنایا۔ محمد مخلوع کا عزل اور نصر بن محمد کی تخت نشینی کا واقعہ بروز عید الفطر ۷۰۸ھ وقوع پذیر ہوا تھا۔ ۷۰۹ھ میں بادشاہ قسطلہ نے اجزائر پر حملہ کیا۔ یہ شہر تو فتح نہ ہوا۔ مگر جبل الطارق پر شاہ قسطلہ کا قبضہ ہو گیا۔ اسی سال دوسری طرف شاہ برشلونہ نے المیریہ پر حملہ کر دیا۔ سلطان نصر نے المیریہ کے بچانے کے لیے فوج بھیجی ابھی المیریہ پر سلسلہ جنگ جاری تھا۔ کہ ابو سعید نے جو ابن الاحمر کا بھتیجا اور حاکم مالقہ تھا۔ علم بغاوت بلند کیا۔ ابو سعید کے بیٹے ابوالولید نے المیریہ کو فتح کر کے بلیش کو بھی فتح کر لیا۔ اور اس طرح سلطنت غرناطہ میں خانہ جنگی شروع ہو کر سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ یہ نامعقول حالات ابھی روبہ اصلاح نہ ہوئے تھے۔ کہ جمادی الثانی ۷۱۰ھ میں سلطان نصر بیمار ہوا اور زندگی سے ناامیدی ہوئی لوگوں نے سلطان محمد مخلوع کو سلطان نصر کی جگہ تخت نشین کرنا چاہا۔ اتفاقاً سلطان نصر تندرست ہو گیا اس نے سلطان محمد مخلوع کو جو اب تک قید تھا۔ قتل کیا۔ ابو سعید اور اس کے بیٹے ابوالولید نے مالقہ کو دارلحکومت بنا کر اپنے مقبوضہ حصہ ملک پر خود مختارانہ حکومت شروع کر دی تھی۔ محرم ۷۱۳ھ میں ابوالولید فوج لے کر دارالسلطنت غرناطہ کے قریب قریتہ العطشاء میں آ کر خیمہ زن ہوا۔ سلطان نصر بھی غرناطہ سے فوج لے کر نکلا۔ ۱۳ محرم ۷۱۳ھ کو سلطان نصر نے ابوالولید سے شکست کھائی اور غرناطہ میں آ کر پناہ لی۔ غرناطہ پہنچ کر صلح کی سلسلہ جنبانی کی۔ ابھی صلح نامہ کی تکمیل نہ ہونے پائی تھی کہ بعض باشندگان غرناطہ نے ابوالولید کو جو مالقہ چلا گیا تھا۔ جا کر صلح سے روکا اور غرناطہ پر حملہ کی ترغیب دی وہ بعض سرداران غرناطہ کو اپنا ہمدرد پا کر قوراً حملہ پر آمادہ ہو گیا۔ مقام شدونہ کے قریب مالقہ و غرناطہ کی فوجوں کا ایک زبردست مقابلہ ہوا۔ آخر ابوالولید کو فتح حاصل ہوئی۔ اور وہ پاشنہ کوب مفرورین کے ساتھ ہی غرناطہ میں داخل ہوا۔ سلطان قصر حمرا میں محصور ہو گیا۔ آخر ۲۱ شوال ۷۱۳ھ کو سلطان نے تخت سلطنت سے دست برداری کی دستا ویز ابو الولید کے حق میں لکھ دی۔ ابو الولید ابو الولید نے غرناطہ کے تخت پر جلوس کر کے نصر کو وادی آش میں جا کر رہنے کی اجازت دی۔ ابو الولید نے غرناطہ کی عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر بہت ہوشیاری سے امور سلطنت کو انجام دینا شروع کیا۔ عیسائی جو مسلمانوں کی اس خانہ جنگی کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ اب غرناطہ کے تخت پر پہلے سے زیادہ قابل اور بہادر بادشاہ قابض ہو گیا ہے حملہ آوری کی تیاریوں میں مصروف ہوئے۔ چنانچہ شاہ قسطلہ نے ۷۱۶ھ میں سلطنت غرناطہ کے سرحدی مقامات پر حملہ کیا۔ اور کئی شہروں پر قابض ہو گیا۔ ابوالولید نے بھی سلسلہ جنگ جاری رکھا۔ اور آخر محرم ۷۱۹ھ میں عیسائیوں کو مار کر نکال دیا۔ اور اپنا تمام علاقہ اس نے خالی کرا لیا۔ ابوالولید کی یہ چیرہ دستی دیکھ کر عیسائیوں نے مذہبی جنگ کا اعلان کر کے تمام عیسائی سرداروں اور