احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
عصمتوں کے آبگینے تارتار کر دئیے اور اگر کوئی بے بس مرید بلبلا اٹھا تو اسے شہر سے نکال دینے اور مقاطعہ کر دینے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے کی تلقین کی۔ فخرالدین ملتانی ایسے کئی لوگوں کو قتل کروا کر دہشت کی فضا پیدا کی گئی مگر اس تمام یزیدی اہتمام کے باوجود مرزامحمود، اپنی پاکبازی کا ڈھونگ رچانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ گاہے ماہے اس دریا سے ایسی موج اٹھتی کہ ذریت مبشرہ کے بارے میں جملہ الہامات کشوف اور رؤیا دھرے کے دھرے رہ جاتے۔ یوں تو مرزامحمود کی زندگی کا شاید ہی کوئی دن ایسا ہوجو بدکاری کی غلاظت سے آلودہ نہ ہو اور جس میں اس پر زناکاری کا الزام نہ لگا ہو۔ لیکن ذیل میں ہم ان الزامات وبیانات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی گونج اخبارات ورسائل ہی میں نہیں، ملک کی عدالتوں تک میں سنی گئی اور اس کے ساتھ بعض بالکل نئی روایات بھی درج کرتے ہیں جو آج تک اشاعت پذیر نہیں ہوسکیں۔ قادیانی امت کی جنسی تاریخ پر اس سے پیشتر متعدد کتب آچکی ہیں۔ لیکن وہ تقاضائے حالات کے ماتحت، جس رنگ میں پیش کی گئیں۔ اس کی بہت سی وجوہ تھیں۔ آئندہ سطور میں ہم کوشش کریں گے کہ ان روایات کو ذرا وضاحت سے پیش کریں اور اس سے پیشتر جو چیزیں اجمال سے بیان ہوئی ہیں۔ ان کی تفصیل کر دیں۔ کیونکہ اگر اس وقت اس کام کو سرانجام نہ دیا گیا تو آنے والا مورخ بہت سی معلومات سے محروم ہو جائے گا۔کیونکہ پرانے لوگوں میں سے جو لوگ صبح گئے یا شام گئے، کی منزل میں ہیں۔ وہ نہ ان سے مل سکے گا اور نہ ان دل دوز واقعات کو سن سکے گا جو خود ان پر یا ان کی اولاد پر گزرے ہیں۔ یہ سب شہادتیں مؤکد بعذاب قسموں کے ساتھ دی گئی ہیں اور یہ تمام افراد قادیانی امت کے خواص میں سے تھے۔ ان میں سے اکثر اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ مگر چند ایسے بھی ہیں جو اپنی برین واشنگ کی وجہ سے کسی نہ کسی رنگ میں قادیانیت سے وابستہ ہیں۔ مگر وہ قادیانی مصلح موعود کو پورے یقین، پورے وثوق اور پورے ایمان کے ساتھ جولیس سیزر کا مثیل، راسپوٹین کا بروز اور ہر موڈیس کا ظل کامل سمجھتے ہیں اور ہر عدالت میں اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ یہ بھی خیال کریں کہ برائی کی اشاعت کا طریق مناسب نہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس امر کو مدنظر رکھیں کہ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے جن میں سے بعض کی اپنی عصمت کی ردا چاک ہوئی اور اظہارحق کی پاداش میں ان پر وہ مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ دنوں پر وارد ہوتے تو راتیں بن جاتیں۔ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے جنہیں خدا نے بھی یہ حق دے رکھا ہے۔ ’’لایحب اﷲ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم‘‘