احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
دوسری طرف اس محرم راز کو بدترین سوشل بائیکاٹ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے اقتصادی ومعاشرتی الجھنوں میں مبتلا کرنے پر ہزاروں روپے خرچ کر کے جب کسی قدر کامیابی ہوئی تو اسے اپنے بدمعاش پیر کا ’’معجزہ‘‘ قرار دیا گیا۔ کوئی شخص اپنی والدہ پر الزام تراشی کی جرأت نہیں کرتا اور اگر خدانخواستہ وہ اس پر مجبور ہوجاتا ہے تو صرف یہ کہہ کر اس کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا کہ دیکھو یہ بہت بری بات ہے۔ مناسب نہیں۔ اس امر کا جائزہ لینا بھی تو ضروری ہے کہ وہ کن المناک حالات سے دوچار ہوا ہے کہ اسے اپنی اتنی عزیز ہستی کی اصل حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا پڑا۔ پیر کی جلوتیں اگر اس کی خلوتوں سے نالاں ہوں تو مریدوں کا اسی سانچے میں ڈھل جانا، ایک لازمی امر ہے۔ مرزامحمود احمد جب گدی نشین ہوا تو اس نے اپنے باوا کی نبوت کو نعوذ باﷲ احمد ثانی نے رکھ لی احمد اوّل کی لاج کے مقام پر پہنچایا۔ کبھی مسلمانوں کو اہل کتاب کے برابر قرار دیا اور کبھی انہیں ہندوؤں اور سکھوں سے مشابہت دے کر ان کے بچوں تک کے جنازوں کو حرام قرار دے دیا۔ قادیانیت کا غالب عنصر اس دور میں اس نچلے اور متوسط طبقے پر مشتمل تھا جو معاشی طور پر پسماندہ ہونے کی وجہ سے پیش گوئیوں کی فضا میں رہتے ہوئے چین محسوس کرتا تھا اور انگریز سے وفاداری کی قادیانی سند اس کی ملازمت کو محفوظ رکھتی تھی۔ جب نئی نبوت، تکفیر مسلمین اور ان کے جنازوں کا بائیکاٹ، انتہاء کو پہنچا تو مذکورہ بالا دونوں طبقوں نے قادیان کی طرف بھاگنا شروع کر دیا کہ وہاں رہائش اختیار کریں۔ کیونکہ جس معاشرہ کو ایک ’’نبی‘‘ کے انکار کی بناء پر کافر قرار دے کر وہ علیحدہ ہوئے تھے۔ وہاں رہنا اب ان کے لئے ناممکن تھا۔ قادیان میں مرزامحمود احمد نے اپنے خاندان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے مریدوں کے چندے سے خریدی ہوئی زمین کچھ اپنے عزیزوں کے ذریعے نہایت مہنگے داموں فروخت کی اور کچھ صدر انجمن احمدیہ کی معرفت اپنے ماننے والوں کو گراں قیمت پر فروخت کی۔ مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت اس کا انتقال ان کے نام نہ کروایا گیا۔ اس طرح وہ اپنے معاشرہ سے کٹ کر قادیانیت کے دام میں اس طرح پھنسے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن اپنی سوسائٹی سے علیحدہ ہوکر اب ایک نئی جگہ پر نئے حالات کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ وہ ہر جائز وناجائز خوشامد کر کے پیر اور اس کے لواحقین کا قرب حاصل کرتے اور انہوں نے وقت اور حالات کے دباؤ کے ماتحت ایسا ہی کیا۔ مگر پیر نے مجبور مریدوں کی عزتوں پر ڈاکہ ڈال کر سینکڑوں