احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
طرفہ تریہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کی رجوع کی نسبت (حجۃ الاسلام ص۲۲، خزائن ج۶ ص۵۹) میں صاف پیش گوئی کی تھی۔ پھر اسی کو (اعجاز احمدی ص۵۱، خزائن ج۱۹ ص۱۶۳) میں الفاظ میں دہرایا ہے۔ ’’کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آجائے گا۔ کون گمان کر سکتا ہے۔ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل وآسان ہے۔‘‘ مگر اب اس کی نسبت (حقیقت الوحی ص۱۸۷،۱۸۸، خزائن ج۲۲ ص۱۹۵) پر لکھتا ہے: ’’صرف میری دعا میں اپنے الفاظ تھے۔ الہامی الفاظ نہ تھے اور صرف میری طرف سے دعا تھی کہ اتنی مدت میں ایسا ہو۔ سو خداوند تعالیٰ اپنی وحی کا پابند ہوتا ہے۔ اس پر فرض نہیں جو اپنی طرف سے التجا کی جائے۔ بعینہ اس کو ملحوظ رکھے۔‘‘ یہ ہیں مرزاقادیانی کے ہتھکنڈے، ہزاروں کے واسطے دعائیں، بددعائیں شائع کرتے رہے۔ جس کے مطابق وقوع ہو گیا۔ وہ ایک نشان اور خدائی قول بن گیا۔ جس کے مطابق کچھ وقوع نہ ہوا۔ وہ فوراً ذاتی آرزو اور انسانی کلام بن گیا۔ ۳۵… محمد احسن کی نسبت الہام ہوا۔ ازپئے آں محمد احسن را۔ تارک روزگارمی بینم۔ یہ کوئی پیش گوئی نہیں۔ ۳۶… مولوی عبداللطیف کی شہادت کے بعد کابل میں سخت ہیضہ پھیلا۔ اس میں بھی وہی لعنتوں اور دعاؤں والی چالاکی ہے۔ مرزاقادیانی کی لڑکی عصمت کو بھی تو ہیضہ ہوا تھا تو پھر مسلمانوں کی تحقیر کا نتیجہ تھا۔ ۳۷… ’’میری کتاب انجام آتھم ص۵۸ میں ایک یہ پیش گوئی تھی جو عبدالحق کے مباہلہ کے بعد ہر ایک قسم سے خداتعالیٰ نے مجھے ترقی دی۔ ہماری جماعت کو ہزارہا تک پہنچادیا۔ ہماری علمیت کا لاکھوں کو قائل کر دیا اور الہام کے مطابق مباہلہ کے بعد ایک اور لڑکا عطاء کیا اور پھر ایک چوتھے لڑکے کے لئے مجھے متواتر الہام آئے اور ہم عبدالحق کو یقین دلاتے تھے کہ وہ نہیں مرے گا۔ جب تک کہ اس الہام کو پورا ہوتا نہ سن لے اب اس کو چاہئے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اس پیش گوئی کو ٹال دے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۵۱،۳۵۲، خزائن ج۲۲ ص۳۶۴،۳۶۵) (انجام آتھم ص۵۸) کو جو پڑھا تو کہیں یہ پیش گوئی نہ ملی۔ اوّل تومرزاقادیانی کسی کتاب کے صفحوں کا حوالہ ہی نہیں دیا کرتا۔ اس مقام پر جو دیا بھی وہ غلط۔ جب تحریر میں یہ حال ہے تو زبانی حکایتوں میں کیا کچھ مغالطہ ہوگا۔