احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
کی گونج تمام دنیا میں پیدا کر دی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت اسی قدر ذکر ہے کہ وہ خدا کے بندے اور خدا کے رسول ہوتے تھے۔ خداوند عالم کی ذات کو بے مثل اور وہم وگمان سے برتر فرمایا ہے۔ مگر آج مرزاقادیانی کو الہام ہوتے ہیں۔ ’’انت منی وانا منک‘‘ (تذکرہ ص۴۲۲) ’’ظہورک ظہوری‘‘ (تذکرہ ص۷۰۴) ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ (تذکرہ ص۶۶) کیا یہ صاف خدائی کا دعویٰ نہیں؟ کیا اس میں قرآنی تعلیمات کا صاف خلاف نہیں؟ کیا ایک شخص جو بدعہد، دائم المرض اور چندوں کا محتاج ہے۔ سچ مچ خداکا ظہور ہے؟ کیا ہی سچ ہے۔ ’’دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں۔‘‘ کیا ’’سبحان ربی الاعلیٰ۰ سبحان ربی العظیم‘‘ جو باربار رکوع وسجود میں دہرایا جاتا ہے۔ ایک بیہودہ بکواس ہے؟ اور صحیح یہی ہے کہ ’’خدا مرزاقادیانی کی حمد کرتا ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۷۹) مرزاقادیانی کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ ’’اگر مرزا نہ ہوتا تو خدا زمین وآسمان کو پیدا نہ کرتا۔‘‘ (تذکرہ ص۶۱۲،۶۵۴) مرزاقادیانی اور خدا ایک ہی ہیں۔ مرزاقادیانی خدا سے اور خدا مرزا سے ہے۔ اے ملعونو! کیا تسبیح، تقدیس، تحمید باری تعالیٰ کے یہی معنی ہیں؟ ۹… قرآن مجید میں صاف حکم ہے: ’’واعتصموا بحبل اﷲ جمیعاً ولا تفرقوا (آل عمران:۱۰۳)‘‘ اﷲ کی رسی کو مضبوط پکڑو اور تفرقہ اندازی مت کرو۔ ’’ان الذین فرّقوا دینہم وکانوا شیعًا لّست منہم فی شیٔ (الانعام:۱۵۹)‘‘ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ایک تفریق ہوگئے تو ان میں سے اے (محمدؐ) تو کسی بات میں نہیں ہے۔ مگر مرزا اور مرزائیوں کو ان آیات کی مطلق پرواہ نہیں۔ بلکہ ان سے صاف ارتداد کر کے تمام مسلمانان عالم کو کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ قرآن کو بوٹی بوٹی کر دیا ہے۔ اپنی ذاتی اغراض اور مشیخت کی بناء پر بیّنات قرآنی، احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا صریح خلاف کر رہے اور اشارات بعیدہ وتاویلات رکیکہ پر اڑے ہوئے ہیں۔ ۱۰… قرآن مجید کا حکم ہے: ’’اوفوا بالعہد (الاسراء:۳۴)‘‘ عہد کا ایفا کرو۔ مگر مرزاقادیانی نے براہین کے متعلق بدعہدی کی، تفسیر کتاب عزیز کی نسبت ہمیشہ وعدے کئے۔ مگر پورے نہ کئے۔ قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ کی نسبت وعدہ کیا۔ ایفا ندارد۔ مولوی ابوالوفا ثناء اﷲ صاحب کو پیش گوئیوں کے امتحان کے واسطے بلایا۔ مگر جب وہ قادیان پہنچے تو سوائے سب وشتم کے اور کچھ نہ کیا۔ مولوی محمد احسن کو بطور مشزی پھرنے پر مامور کیا اور تنخواہ کا چندہ کیا۔ چندہ وصول مگر اوائے فرض منصبی ندارد۔ ایسا ہی الحکم اور البدر میں ہمیشہ طرح طرح کے وعدہ چھپتے ہیں اور بلاوجہ توڑے جاتے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں کی جاتی کہ بدعہد کو اﷲ فاسق اور گمراہ فرماتا ہے۔ ’’یضل بہ